افغان طالبان رجیم کی مزید اہم پوسٹیں اور مراکز تباہ

جوابی کارروائیاں ،افغان طالبان اپنے ٹھکانے چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور
 خضدار سے فروری میں اغواء نجی تعمیراتی کمپنی کے 11 ارکان بازیاب 
اسلام آباد،راولپنڈی ،خضدار(خصوصی رپورٹ) پاک فوج کا افغان طالبان رجیم کیخلاف آپریشن غضب للحق جاری ہے،سرحدی علاقوں میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف مئوثرجوابی کارروائیوں میں مزید اہم ٹھکانوں اور پوسٹوں کو تباہ کر دیا گیا۔دوسری طرف بلوچستان پولیس نے خضدار سے گزشتہ ماہ اغوا کئے جانیوالے نجی تعمیراتی کمپنی کے 11 ارکان کو بازیاب کرا لیا ہے۔تفصیلات کے مطابق پاک فوج کا افغان طالبان رجیم کیخلاف آپریشن غضب للحق جاری ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نیارندو اور کرم سیکٹر میں بروقت اور مئوثر کارروائی کرتے ہوئیافغان طالبان کی متعدد پوسٹیں تباہ کر دیں، کارروائیوں کے دوران بزدل افغان طالبان اپنے ٹھکانے چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افواج پاکستان کارروائیوں کے دوران انتہائی احتیاط برتتے ہوئے صرف دہشتگرد عناصر کے ٹھکانوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہیں، آپریشن کا مقصد سرحدی علاقوں میں امن و استحکام کو یقینی بنانا اور دہشتگرد عناصر کی سرگرمیوں کا مکمل خاتمہ ہے ، پاک فوج کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دوسری طرف بلوچستان میں پولیس نے ضلع خضدار کے علاقے مولہ سے مسلح افراد کے ہاتھوں گزشتہ ماہ اغوا کئے جانیوالے نجی تعمیراتی کمپنی کیپراجیکٹ منیجر گل شیر، غلام سرور، عبدالمالک بگٹی سمیت 11 ارکان کو بازیاب کرا لیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق مغوی افراد ورلڈ بینک کے تعاون سے جاری واٹر چینل منصوبے پر کام کر رہے تھے ،مغوی افراد میں سے 6 کا تعلق سندھ سے جبکہ باقی مقامی افراد تھے۔