خوشحال پاکستان کا معاشی روڈ میپ

میاں صبیح الرحمان
گزشتہ چند برسوں نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ صرف مالیاتی استحکام کسی معیشت کو مضبوط نہیں بناتا، بلکہ اصل استحکام اس وقت آتا ہے جب ریاست اپنے شہریوں میں سرمایہ کاری کرے۔ دنیا کی کامیاب معیشتوں کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے انسان کو مضبوط بنایا، پھر معیشت خود مضبوط ہوتی چلی گئی۔ پاکستان کو بھی اب یہی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
آج ہمارے نوجوان ملک کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں، مگر افسوس کہ ان کی ایک بڑی تعداد روزگار کی تلاش میں بیرونِ ملک جانے پر مجبور ہے۔ اگر صنعت، زراعت، آئی ٹی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، سیاحت اور برآمدی شعبوں کو ترجیح دی جائے تو یہی نوجوان پاکستان کی معاشی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ ہمیں روزگار پیدا کرنے والی معیشت کی ضرورت ہے، صرف اعداد و شمار بہتر دکھانے والی معیشت کی نہیں۔
اسی طرح توانائی کا بحران بھی معیشت پر گہرا اثر ڈال رہا ہے۔ مہنگی بجلی نے صنعت کی پیداواری لاگت میں اضافہ کیا، جس سے پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مہنگی ہو گئیں۔ صنعت کار تبھی سرمایہ کاری کرے گا جب اسے سستی اور مسلسل توانائی میسر ہوگی۔ بجلی کی قیمتوں میں استحکام، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور لائن لاسز میں کمی کے بغیر صنعتی ترقی کا خواب ادھورا رہے گا۔
ٹیکس نظام بھی اصلاحات کا متقاضی ہے۔ پاکستان میں لاکھوں لوگ ٹیکس دینا چاہتے ہیں، مگر نظام کی پیچیدگی، بار بار قوانین میں تبدیلی اور مختلف اداروں کی غیر ضروری مداخلت کاروباری طبقے میں بے یقینی پیدا کرتی ہے۔ ریاست کو سزا دینے کے بجائے اعتماد پیدا کرنا ہوگا۔ جب قوانین آسان، شفاف اور یکساں ہوں گے تو ٹیکس وصولی خود بخود بہتر ہوگی۔ دنیا میں کوئی بھی معیشت صرف جرمانوں سے نہیں بلکہ اعتماد سے چلتی ہے۔
یہ بھی وقت کی ضرورت ہے کہ سرکاری ادارے اپنی ذمہ داری کو سہولت فراہم کرنے کے تصور سے جوڑیں۔ ایک صنعت کار، ایک تاجر یا ایک برآمد کنندہ جب کسی دفتر میں جائے تو اسے یہ احساس ہونا چاہیے کہ ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہے، اس کے سامنے نہیں۔ اگر کاروبار آسان ہوگا تو سرمایہ کاری بڑھے گی، اگر سرمایہ کاری بڑھے گی تو روزگار پیدا ہوگا، اور اگر روزگار بڑھے گا تو غربت میں کمی آئے گی۔
پاکستان کے لیے برآمدات میں اضافہ ہی مستقل معاشی استحکام کا راستہ ہے۔ دنیا کی وہ تمام معیشتیں آگے بڑھیں جنہوں نے اپنی مصنوعات عالمی منڈی میں فروخت کیں۔ ہمیں بھی خام مال بیچنے کے بجائے ویلیو ایڈڈ مصنوعات تیار کرنی ہوں گی۔ ٹیکسٹائل، چاول، کھیلوں کا سامان، سرجیکل آلات، آئی ٹی سروسز، حلال فوڈ اور انجینئرنگ مصنوعات وہ شعبے ہیں جہاں پاکستان عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔
رائس سیکٹر کی حالیہ مثال ہمارے سامنے ہے۔ حکومت کی جانب سے ڈی ایل ٹی ایل کی سہولت نے یہ ثابت کیا کہ جب ریاست بروقت اور درست پالیسی اپناتی ہے تو اس کے نتائج فوری طور پر برآمدات، زرمبادلہ اور کسان کی آمدنی میں نظر آتے ہیں۔ یہی ماڈل دیگر برآمدی شعبوں پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔ اگر چاول، کپاس، پھل، سبزیاں، حلال گوشت اور آئی ٹی سیکٹر کو اسی طرز کی طویل المدتی سہولتیں دی جائیں تو پاکستان کی برآمدات میں کئی ارب ڈالر کا اضافہ ممکن ہے۔
لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ کسان کو جدید زرعی تحقیق، معیاری بیج، عالمی معیار کی زرعی ادویات، پانی کے مؤثر استعمال اور مارکیٹ تک براہِ راست رسائی فراہم کی جائے۔ بدقسمتی سے آج بھی بہت سے کسان غیر معیاری یا ممنوعہ زرعی ادویات استعمال کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جس سے نہ صرف پیداوار متاثر ہوتی ہے بلکہ ہماری برآمدات بھی بین الاقوامی معیار پر پوری نہیں اترتیں۔ زرعی اصلاحات کا مطلب صرف سبسڈی نہیں بلکہ جدید علم، تحقیق اور نگرانی بھی ہے۔
یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ آج دنیا معاشی جنگ کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ وہ ممالک کامیاب ہوں گے جو اپنی پیداوار، برآمدات، ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کو مضبوط بنائیں گے۔ پاکستان کے پاس وسائل بھی ہیں، افرادی قوت بھی، زرعی زمین بھی اور جغرافیائی اہمیت بھی۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ قومی پالیسیاں سیاسی مفادات کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر ترتیب دی جائیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کو قرضوں کی معیشت سے نکل کر پیداوار کی معیشت کی طرف بڑھنا ہوگا۔ ہمیں بجٹ کو صرف آمدن اور اخراجات کی کتاب نہیں بلکہ قومی تعمیر کا منشور بنانا ہوگا۔ جب ریاست اپنی ترجیحات میں انسان، تعلیم، صحت، روزگار، زراعت، صنعت اور برآمدات کو مرکزی حیثیت دے گی تو ترقی خود بخود آئے گی۔
قومیں نعروں سے نہیں، درست فیصلوں سے بنتی ہیں۔ اگر آج ہم نے معیشت کو سیاسی مصلحتوں سے نکال کر قومی ضرورتوں کے مطابق استوار کر لیا، کاروبار کو سہولت دی، کسان کو طاقت دی، نوجوان کو ہنر دیا اور برآمدات کو قومی مشن بنا لیا تو پاکستان نہ صرف اپنے قرضوں کا بوجھ کم کر لے گا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک باوقار، خودمختار اور خوشحال ریاست کی بنیاد بھی رکھ دے گا۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر بجٹ ایک سالانہ کارروائی نہیں بلکہ قومی ترقی کا حقیقی روڈ میپ بن سکتا ہے۔