سہیل آفریدی سے سوال کرنے والی طالبہ کے والد برطرف؟ حقیقت سامنے آگئی

سہیل آفریدی سے سوال کرنے والی طالبہ کے والد برطرف؟ حقیقت سامنے آگئی

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے ایک طالبہ کی جانب سے کیے گئے سخت سوالات کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا۔

 مختلف صارفین کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ طالبہ کے سوال پوچھنے کی سزا اس کے والد کو دی گئی اور انہیں سرکاری ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔اس دعوے کے ساتھ ایک مبینہ نوٹیفکیشن بھی گردش کرتا رہا، جس میں محکمہ تعلیم کے ایک ملازم بشیر خان کو بغیر اطلاع غیر حاضری اور انکوائری کا جواب نہ دینے پر ملازمت سے نکالنے کا ذکر تھا۔ دستاویز پر 4 فروری کی تاریخ درج تھی اور اسے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کے دفتر سے جاری شدہ ظاہر کیا گیا۔ بعض سوشل میڈیا صارفین نے اسے وزیراعلیٰ سے ہونے والی گفتگو کا ردعمل قرار دیتے ہوئے وسیع پیمانے پر شیئر کیا۔تاہم فیکٹ چیک سے یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا۔ متعلقہ طالبہ فاطمہ خان نے وضاحت کی کہ وائرل نوٹیفکیشن جعلی ہے، ان کے والد کا نام بشیر خان نہیں اور نہ ہی وہ محکمہ تعلیم میں ملازم رہے ہیں۔

 ان کے مطابق ان کے والد ڈاکٹر اخوان خان لائیو اسٹاک ڈپارٹمنٹ سے ریٹائر ہوچکے ہیں۔مزید برآں، مبینہ نوٹیفکیشن پر درج چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے بھی اس دستاویز کو من گھڑت قرار دیا، جبکہ ڈائریکٹر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ناہید انجم نے تصدیق کی کہ ان کے دفتر سے ایسا کوئی حکم نامہ جاری نہیں ہوا۔فیکٹ چیک کے مطابق وزیراعلیٰ سے سوال کرنے پر طالبہ کے والد کو ملازمت سے نکالنے کا دعویٰ بے بنیاد اور گمراہ کن ہے، اور حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے اس نوعیت کا کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔