وجود کائنات کی ساخت میں توحید

 امجد علی
کائنات اپنی وجودی ساخت میں مادی و غیر مادی، جسم و روح، اکائی اور وحدت کی صورتوں کے درمیان ایک نازک مگر گہرا توازن رکھتی ہے۔ ہر شے اپنی انفرادی حیثیت میں آزاد اکائیاں بھی ہیں اور اسی لمحے کسی بڑی وحدت کا حصہ بھی، اور ہر اکائی کا عمل اس کی وحدت پر اثر انداز بھی ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ اصل حقیقت وحدت ہے یا اکائی۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے اگر ریگستان کو دیکھا جائے تو ریت کا ہر ذرہ اپنی جگہ مکمل وجود رکھتا ہے مگر یہی منتشر ذرّات متحد ہو کر ایک وسیع اور مربوط ریگستان کی وحدت کو تشکیل دیتے ہیں۔ انسان بھی بظاہر الگ الگ، فاصلوں اور دوریوں میں بٹا ہوا دکھائی دیتا ہے، مگر کردار، معاشرت اور انسانی قدروں کے رشتوں میں وہ ریگستان کے ذرّات کی طرح ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ جیسے تسبیح میں ہر خانہ بلکہ الگ مگر ایک ڈوری سب کو ایک تسبیح بنا کر ایک کر دیتی ہے۔  یہی نسبت ہمیں انار کے دانوں، سیب کے سفوف، جسم کے مساموں اور سمندر کے قطروں میں دکھائی دیتی ہے، جو بیک وقت الگ بھی ہیں اور مربوط بھی۔

تو اکائی اور وحدت وجود کا یہ فرق کیا ہے۔۔۔۔

دراصل فرق شے میں نہیں بلکہ دیکھنے کے زاویے میں ہے۔ جب کسی چیز کو دور سے دیکھا جائے تو وہ مربوط اور واحد دکھائی دیتی ہے، اور جب اسی کو قریب سے، خوردبین کی مشینی آنکھ سے دیکھا جائے تو وہ لاتعداد اکائیوں میں منقسم ایک جہان نظر آتی ہے۔ وہ اپنی حیثیت و حقیقت میں اکائی اپنی جگہ ایک مکمل نظام رکھتی ہے۔ یوں ایک ہی وجود ایک زاویے سے ایک شے اور دوسرے رخ سے پوری دنیا بن جاتا ہے۔ آئیے اس ترتیب تعمیر کائنات کو سمجھتے ہیں خلیات مل کر ٹشوز بناتے ہیں، ٹشوز اعضاء￿  کی صورت اختیار کرتے ہیں، اعضاء￿  مل کر ایک وجود کو تشکیل دیتے ہیں اور وجود سے فرد کا جسم جنم لیتا ہے۔ افراد سے انسان بنتا ہے۔ پھر انسان، چرند و پرند، حیوانات و نباتات، حشرات، ہوائیں اور فضائیں، یہ سب مل کر کرہ? ارض کی وحدت بناتے ہیں۔ پھر کرہ ہائے سیارگاں مل کر گلیکسیوں کی صورت میں منظم ہوتے ہیں، گلیکسیوں کے مجموعے سے ایک کائنات وجود میں آتی ہے، اور آخرکار یہ پوری کائنات ایک نقطائی اکائی (مادے کی آخری نشانی) بن جاتی ہے پھر نقطہ روشنی/نور یا سگنل اذن ربی ارادت الہی میں ضم  ہو جاتی ہے۔

 اب اخر تک بیک ویو دیکھیں تو ہر چھوٹی سے بڑی چیز ایک ہی نقطہ میں سمٹی ہوئی ہے۔ یہی عمل مسلسل زمین کی گہرائیوں سے لے کر آسمانوں کی انتہائے رفعتوں تک ہر شے میں جاری ہے۔ جب کل کہکشائیں ایک کائناتی وحدت میں شامل ہو جاتی ہیں۔  تو یہ ذرے میں سمٹی پوری کائنات کسی اور عظیم تر وحدت کے لیے ایک نقطہ بن گئی۔ یہی وہ آئینہ ہے جس میں ذرہ پوری کائنات اور کائنات ایک ذرہ دکھائی دیتی ہے، جیسے ایک قطرے میں سمندر اور سمندر میں ایک قطرہ، اور اس کے باوجود دونوں اپنی اپنی ماہیت میں قائم بھی رہتے ہیں۔

حقیقت نہ فاصلے سے بدلتی ہے اور نہ زاویہ نگاہ سے۔ اسے جس زاویہ سے بھی دیکھیں تو کبھی کوئی تبدیلی نہیں  نظر پاؤ گے اور جو شے بدل جائے وہ حقیقت نہیں بلکہ محض عکس، ظل، شبہ اور گمان ہے۔ یہ صورت عموماً دور سے دیکھنے سے یا سایہ کو دیکھنے سے محسوس ہوتی ہے۔ کسی اصل شئے کو قریب سے دیکھیں تو وہ ہر زاویے سے ایک ہی صورت نظر آتی ہے کیونکہ حقیقی ہوتی ہے۔ انسان جس چیز کو سب سے قریب سے دیکھ سکتا ہے وہ اس کی اپنی ذات ہے، اور جب وہ اپنی ذات کو اتنا قریب سے دیکھتا ہے کہ فکر کی آنکھ سے اسے شفاف کر کے دیکھتا ہے تو اس بیکنار وسیع تاریک اور خالی سمندر نما وجود میں اسے کچھ دکھائی نہیں دیتا، حتیٰ کہ وہ خود بھی اپنے خالی پن میں حیرت سے گم ہو جاتا ہے۔ اور جب سب کچھ اوجھل ہو جائے تو صرف نکتہ نما سگنل جیسی روشنی ظاہر ہوتی ہے، ایک غیر منقسم اشارہ، جو مادہ سے یکسر الگ ہوتا ہے۔ نور، روشنی یا تجلی ہوتی ہے وہ ایک حکم ( ارادہ الہی) سے منسلک ہے جس کی کوئی اکائی نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ حقیقی وحدت صرف ذات الٰہی ہے، اور باقی سب کچھ اکائیاں ہیں جو وحدت کی عکسی شہادت لیے ہوئے ہیں۔

اسی لیے قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ ہر وقت اور ہر جگہ موجود ہے، جس طرف رخ کرو گے اسے ہی پاو گے۔ سوچو  اگر ہر جگہ وہی ہے تو انسان کہاں موجود ہے۔ کہیں بھی نہیں۔ جس دن انسان "من عرف نفس? فقد عرف رب?" کی حقیقت کو جان لے گا، ستر ہزار پردوں سے درپردہ تہہ در تہہ تجلیات کی برسات میں جاری صورت گری کو سمجھ پائے گا اسی دن وہ انسان کہلائے گا، احسن تقویم ہو گا۔ عارف کہلائے گا 

لوگ بیج سے درخت نکلتا دیکھتے ہیں مگر یہ کبھی نہیں سوچتے کہ "درخت دراصل بیج کی تفصیلی شرح ہے"۔ ہم جانتے بھی ہیں اور مانتے بھی ہیں کہ کائنات ایک ذرے سے وجود میں آئی، پھر بھی عملی یقین کے ساتھ اس حقیقت کو قبول نہیں کرتے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی جسم کے زخم تو دیکھ لیتا ہے مگر روح کے وجود سے انکار کرتا ہے، سانس تو لیتا ہے مگر ہوا کو تسلیم نہیں کرتا۔ سب مانتے ہیں کہ اگر سمندر کے کسی ایک حصے میں زہر ڈال دیا جائے تو پورا سمندر زہریلا ہو جاتا ہے، کیونکہ مچھلیاں مرتی نظر اتی ہیں مگر یہ ماننے سے کتراتے ہیں کہ جھوٹ، ریاکاری، ظلم، تکبر اور بے راہ روی کے رویے انسانیت کے سمندر کو بھی زہریلا کر دیتی ہیں۔ وہ بھی انسانوں کو مار دیتے ہیں۔ کیونکہ یہاں ہر ہر چیز آپس میں کسی نہ کسی معلوم یا نا معلوم طریقے سے جڑیں ہوئی ہے۔ ایک ہے۔

افسوس تو یہ ہے کہ جو بات سائنس کہہ دے اسے فوراً مان لیا جاتا ہے، مگر اللہ کے فرمان پر شک کیا جاتا ہے، حالانکہ  یہ ثابت شدہ ہے کہ زید و بکر، انسان اور اسلام دو الگ حقیقتیں نہیں بلکہ ایک ہی سچ کے دو نام ہیں۔ اگر کبھی انسان ٹھہر کر توقف کرے تو حقیقت خود بخود اس پر منکشف ہو جاتی ہے، اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب کی حقیقت کھل جاتی ہے ابھی یہ سوئے ہوئے ہیں  آنکھ نہیں کھلی، ورنہ ہر ذوق و جہد تلاش اسے اپنے رب تک لے جاتی ہے۔۔

 اک قطرہ? شبنم پر خورشید ہے عکس آراء￿ 
یہ نیستی و ہستی افسانہ ہے افسانہ۔