پاکستان اورآئین کے وفادار ہیں ‘ جبری فیصلے نہیں مانیں گے: مولانا فضل الرحمٰن

قبائلی عوام ایف سی آر کا نظام چاہتے ہیں‘ہم دینی مدارس کے لئے اسلام آباد مارچ کر سکتے ہیں تو قبائل کے لئے بھی مارچ کریں گے، پٹھان واحد قوم اس میں کافر نہیں غیرت مند ہیں
مقتدر قوتوں کو بات پسند نہیں آتی تو مجھے غدار کہا جاتا ہے‘، ہم سیاست میں تشدد کے خلاف ہیں‘آج پھر امریکہ افغانستان میں جنگ کا سوچ رہا ہے:سربراہ جے یو آئی کا جرگہ سے خطاب

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے قبائلی مسائل کے حل کے لیے اسلام آباد مارچ کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے  ہم پاکستان اور آئین کے وفادار ہیں لیکن جبری فیصلے نہیں مانیں گے۔جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان  نے قبائلی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا  پٹھان واحد قوم اس میں کافر نہیں غیرت مند قوم ہے، مشران نے جرگہ بلایا یہ احسان ہے اور ہم جرگوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ تسلسل سے قبائلی جرگوں میں شریک ہورہا ہوں،  قبائلی اضلاع کے انضمام لے وقت بھی جرگوں میں رہا، ہم نے انضمام کی مخالفت نہیں لیکن ہمارا موقف تھا  فاٹا کی عوام کے مشورے کے بغیر انضمام کا فیصلہ نہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ انضمام سے پہلے جرگہ میں فیصلہ ہوا قبائلی عوام کی رضامندی پر چھوڑا جائے، قبائلی عوام ایف سی آر کا نظام چاہتے ہیں، الگ صوبہ چاہتے یا صوبے میں انضمام چاہتے ہیں،  جرگہ نے قبائل کے انضمام کے حوالے سے ریفرنڈم کا مطالبہ کیا تھا۔انہوں نے کہا  ملک میں آئین و قانون پر عمل کون کرتا ہوں، یم آئین  و قانون کی بات کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ملک توڑنے کی بات کی جارہی ہے، آئین عہد و پیمان کا نام ہے۔  مقدر قوتوں کو لفظ پسند نہیں آتا تو مجھے غدار کہا جاتا ہے، ہم آئین ریاست ملک کے وفادار ہیں، آئین کے چند کاغذ کو بوجھ تم لوگوں نے سمجھا ہے۔انہوں نے کہا کہ  ہمارے حکمران امریکہ کے وفادار نظر آتے ہیں، امریکہ نے افغانستان میں جنگ کی، ہمارے حکمران مسلمان بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے امریکہ کا اتحادی بن گے، ہمارے حکمرانوں نے امریکا کی تابعداری کی ہے، اپنے بھائی کو دشمن کہتے نہیں تھکتے کہی امریکہ باراض نہ ہوجائے۔مولانا فضل الرحمن  نے کہا  نیتن یاہو کہتا ہے کہ اسرائیلیوں کو بسایا جائے،  آج پھر امریکہ افغانستان میں جنگ کا سوچ رہا ہے، اپنے مسلمان بھائیوں کو دشمن کہنا اسلام دشمنی اور پاکستان دشمنی کیا ہوسکتی ہے، پشتون قوم اکھٹی ہوتی ہے، ان پر گولیاں چلائی جاتی ہیں، ہم سیاست میں تشدد کے خلاف ہیں۔انہوں نے  کہا قبائلی مسائل کے حل کے لیے اسلام آباد مارچ کی دھمکی دی اور کہا  ہم دینی مدارس کے لیے اسلام آباد مارچ کر سکتے ہیں تو قبائل کے لیے بھی مارچ کریں گے، تاریخ آپ کو قابض اور قاتل کہے گی، ہم پاکستان اور آئین کے وفادار ہیں لیکن جبری فیصلے نہیں مانیں گے۔