2 سوتنیں الیکشن کے اکھاڑے میں اْتر گئیں! نتیجہ کیا رہا؟

تلنگانہ (خصوصی رپورٹ) ایک ہی شخص کی دو بیویاں جنہیں ہمارے معاشرے میں سوکن بھی کہا جاتا ہے ایک الیکشن میں ایک دوسرے کے مدمقابل آ گئیں۔کہا جاتا ہے کہ عورت سب کچھ برداشت کر سکتی ہے مگر اپنے شوہر کی دوسری بیوی یعنی سوکن کو برداشت نہیں کر سکتی۔ ہمارے اردگرد ایسی بہت سی خبریں پھیلی ہیں جن میں سوکنوں کی چپقلش اور مقابلے بازی دکھائی دیتی ہے۔ تاہم اس بار الیکشن میں دو سوکنیں میدانمیں آ گئیں۔یہ دلچسپ الیکشن بھارتی ریاست تلنگانہ میں ہوا ہے جہاں گرام پنچایت انتخابات میں سرپنج کے انتخاب کے لیے نرسمبھا ریڈی نامی شخص نے اپنی دونوں بیویوں کو ایک دوسرے کے مدمقابل اتار دیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق نرسمھا ریڈی نے اپنی دونوں بیویوں لاو?نیا اور رجیتا کے نام سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ تاہم یہاں سب سے دلچسپ بات یہ رہی کہ نرسمھا کی دوسری بیوی رجیتا نے اپنی سوکن کا مقابلہ کرنے کے بجائے الیکشن سے اپنا نام واپس لے لیا۔لاو?نیا واحد امیدوار ہونے کے باعث بلامقابلہ سرپنچ منتخب ہو گئی جب کہ پنچایت کی حدود میں شامل تمام 10 وارڈ بھی متفقہ طور پر منتخب ہوئے جس کے بعد لاؤنیا باضابطہ سرپنچ قرار دی گئی۔یہ واقعہ سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگیا اور صارفین نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا۔