کوئٹہ میں سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا حل علیحدگی یا تشدد سے نہیں بلکہ آئینی، سیاسی، انتظامی اور ترقیاتی طریقوں کے مؤثر استعمال میں ہے۔
انہوں نے یہ باتیں آئی ایس پی آر کے سمر انٹرن شپ پروگرام 2026 کے تحت 6 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں کہی، جس میں انہوں نے 21 مختلف اسٹیشنز سے خطاب کیا۔سینیٹر کاکڑ نے بلوچستان کی تاریخ، علیحدگی پسند بیانیے، دہشت گردی، انسانی حقوق، قومی سلامتی اور نوجوانوں کے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ انتہا پسندی اور ریاست مخالف بیانیوں کا مقابلہ ذہنی، علمی اور فکری طور پر کریں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں علیحدگی پسند اور دہشت گرد تنظیموں کی بنیادی حکمت عملی تشدد ہے، اور فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا مقابلہ اور ان کا خاتمہ ضروری ہے۔ انہوں نے شہریوں اور مزدوروں کو نشانہ بنانے کو انسانی حقوق اور حقِ زندگی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں زبان، دلیل، علم اور ابلاغ کی طاقت کا استعمال ضروری ہے۔