وہ عجیب قصبہ جہاں مرنے کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا

لاہور(نیٹ نیوز)سزائے موت کو سخت ترین سزا قرار دیا جاتا ہے مگر ایک یورپی قصبے میں تو ایک قانون کے ذریعے اسے بالکل نئے معنی پہنا دیے گئے ہیں۔جی ہاں اسپین کے صوبے غرناطہ کے ایک چھوٹے سے قصبے لانجارون میں لوگوں کے لیے مرنے کو ہی غیر قانونی قرار دیا گیا۔یہ واقعی یہاں کا قانون ہے جس کا نفاذ قصبے کے سابق میئر جوز روبیو نے 25 سال سے زائد عرصے قبل کیا تھا۔1999 میں میئر کی جانب سے قانون کے نفاذ کے حکم نامے میں شہریوں پر زور دیا گیا تھا کہ وہ اپنی صحت کا بہت زیادہ خیال رکھیں تاکہ وہ قبرستان کے لیے زمین خریدنے تک زندہ رہ سکیں۔حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ تو رہائشیوں کے لیے لانجارون میں مرنے پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔اس زمانے میں میئر پر دباؤ تھا کہ وہ قصبے کے واحد قبرستان بھرنے کے مسئلے کو فوری طور پر حل کریں۔انہوں نے اس کا جو حل نکالا وہ بالکل ہی نرالا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ 'میں بس ایک میئر ہوں اور مجھ سے اوپر خدا ہے جو سب کچھ چلاتا ہے'۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ایک نے اس حکم نامے کو مزاح کے طور پر لیا اور اس پر عملدرا?مد کی مضبوط خواہش ظاہر کی۔یہ واضح نہیں کہ اس قصبے میں قبرستان کو توسیع دی گئی یا نہیں مگر 26 سال بعد بھی وہاں ایک ہی قبرستان ہے۔