پاکستان کے نوجوان فاسٹ بولر رضا اللہ نے انگلینڈ کے خلاف ایجبسٹن ٹیسٹ میں ڈیبیو کرتے ہی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرکے کرکٹ شائقین کی توجہ حاصل کرلی۔
مردان سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ دائیں ہاتھ کے تیز گیند باز نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی صرف چوتھی گیند پر انگلینڈ کے اسٹار بیٹر جو روٹ کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کرکے ڈیبیو وکٹ حاصل کی۔ جو روٹ کو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے کامیاب ترین بلے بازوں میں شمار کیا جاتا ہے۔رضا اللہ کی قومی ٹیم تک رسائی کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔ رپورٹس کے مطابق انگلینڈ کے دورے کے لیے منتخب کیے جانے کے وقت ان کے پاس پاسپورٹ تک موجود نہیں تھا۔ سلیکٹرز نے ان سے رابطے کی کوشش کی، تاہم فون بند ہونے کے بعد مبینہ طور پر ایک کوچ کو ان کے گاؤں بھیجا گیا۔ہنگامی بنیادوں پر رضا اللہ کے پاسپورٹ اور ویزے کا انتظام کیا گیا اور وہ انگلینڈ پہنچے۔ انہیں صرف اسکواڈ کا حصہ بنانے کے بجائے فوری طور پر پلیئنگ الیون میں شامل کرلیا گیا۔
رضا اللہ نے اپنی تیز رفتاری سے بھی متاثر کیا اور ابتدائی اوورز میں 92 میل فی گھنٹہ تک کی رفتار سے گیند کرائی۔ پہلے روز کے اختتام تک نوجوان فاسٹ بولر دو وکٹیں حاصل کرچکے تھے۔رضا اللہ نے گزشتہ نومبر میں قائداعظم ٹرافی میں پشاور کی جانب سے فرسٹ کلاس ڈیبیو کیا تھا، جبکہ اس سے قبل مردان ڈسٹرکٹ ٹیم کی نمائندگی کے دوران پشاور ریجن کے کوچ عبدالرحمان کی نظر میں آئے تھے۔ان کی شاندار بولنگ پر دنیا بھر کے سابق کرکٹرز اور کرکٹ تجزیہ کاروں نے بھی داد دی، جبکہ بھارتی ناقدین بھی نوجوان پاکستانی فاسٹ بولر کی صلاحیتوں کے معترف دکھائی دیے۔