بھارتی میڈیا کا پروپیگنڈہ اور پاکستان کا وقار

 عاصم رضا خیالوی

بھارتی میڈیا ہمیشہ سے جھوٹ اور پروپیگنڈے کا سہارا لیتا آیا ہے۔ جنگی میدان ہو یا سفارتی محاذ، جب بھی بھارت کو شکست ہوئی ہے تو اس کا میڈیا حقیقت کو چھپانے اور اپنی عوام کو بہلانے کے لیے مصنوعی کہانیاں گھڑتا رہا ہے۔

حال ہی میں یہ تماشا ایک بار پھر دیکھنے کو ملا جب پاکستان میں بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں شروع ہوئیں تو بھارتی میڈیا نے اس پر خوشی کے ڈھول بجانے شروع کر دیے۔ پاکستان کے کھیتوں، بستیوں اور دیہات میں آنے والے نقصان پر بھارتی چینلز اس طرح مسکرا رہے تھے جیسے یہ ان کی اپنی کوئی بڑی "کامیابی" ہو۔ وہ اپنی عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ اگر پاکستان نے ہمارے رافیل طیارے گرائے، ہمارا دفاعی نظام تباہ کیا اور ہمیں میدانِ جنگ میں شکست دی، تو ہم نے بھی "پانی" کے ذریعے پاکستان کے گاؤں اور کھیت اجاڑ دیے۔ یہ سوچ نہ صرف بچگانہ ہے بلکہ بھارتی میڈیا کی ذہنی پستی اور بزدلی کی عکاس بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قدرتی آفات پر خوش ہونا انسانی اخلاقیات کے منافی ہے اور دنیا بھی جانتی ہے کہ یہ رویہ بھارت کی کمزوری اور احساسِ کمتری کا کھلا ثبوت ہے۔

پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی تاریخ گواہ ہے کہ بھارت جب بھی پاکستان کے خلاف کسی محاذ پر آیا، اسے رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ کارگل جنگ میں بھارتی افواج کو اندازہ ہو گیا تھا کہ پاکستانی جوان کس قدر بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت رکھتے ہیں۔ بالاکوٹ میں بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے دن کی روشنی میں بھارتی فضائیہ کو سبق سکھایا اور دنیا نے دیکھا کہ کس طرح بھارتی طیارے تباہ ہوئے اور ایک پائلٹ کو گرفتار کر کے دنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔ اسی طرح پلوامہ واقعے کے بعد بھارتی میڈیا نے اپنی عوام کو بہکانے کے لیے طرح طرح کے جھوٹ گھڑے۔ مگر عالمی دنیا نے جلد ہی دیکھ لیا کہ بھارت کی اپنی پالیسیوں اور کمزوریوں نے اسے کتنا نقصان پہنچایا ہے۔

چین میں منعقدہ حالیہ سیمینار نے بھی بھارتی قیادت کے اصل مقام کو بے نقاب کر دیا۔ اس اجلاس میں ترکیہ، روس، ایران، پاکستان اور دیگر ممالک کے رہنما شریک تھے۔ پاکستان کے وزیرِاعظم کو ہر سطح پر عزت و وقار کے ساتھ سراہا گیا جبکہ بھارتی وزیرِاعظم کو یکسر نظرانداز کیا گیا۔ اس موقع پر پاکستان کے سپہ سالار بھی وزیرِاعظم کے شانہ بشانہ موجود تھے۔ دفاعی قیادت کی سنجیدہ سفارت کاری اور پرعزم موجودگی نے یہ پیغام دیا کہ پاکستان اپنی سیاسی و اسٹریٹجک قیادت کے ساتھ ایک پیج پر ہے۔ پاکستان کی ترقی، استحکام اور عوام کی خوشحالی کے لیے عسکری اور سیاسی قیادت کا اتحاد بھارتی قیادت کو کسی طور برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ نریندر مودی کے چہرے پر الجھن اور گھبراہٹ کے تاثرات صاف نظر آئے۔ وہ اچھی طرح سمجھ رہا تھا کہ ان دو لیڈران کی موجودگی بھارت کے عزائم کے لیے ایک کھلی رکاوٹ ہے۔

اب بھارتی میڈیا یہ جھوٹا پروپیگنڈہ کر رہا ہے کہ چین بھارت کے ساتھ بڑے معاہدے کرنے جا رہا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ چین اور بھارت کے درمیان صرف تجارتی سطح پر بات ہو سکتی ہے، لیکن جب بات دفاع اور اسٹریٹجک تعاون کی آتی ہے تو چین کے لیے پاکستان ہی اولین ترجیح ہے۔ چین جانتا ہے کہ پاکستان اس خطے کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور علاقائی امن، استحکام اور ترقی کے بغیر پاکستان کا کردار نامکمل ہے۔

دنیا دیکھ رہی ہے کہ پاکستان کا وقار اور عزت حقیقت پر مبنی ہے، جبکہ بھارت کی مصنوعی عزت محض فلمی ڈائیلاگ اور میڈیا کی کہانیوں تک محدود ہے۔ پاکستان کی قربانیوں، سفارت کاری اور دفاعی قوت کو دنیا تسلیم کرتی ہے۔ یہی اصل سچ ہے جسے نہ بھارتی میڈیا جھٹلا سکتا ہے اور نہ ہی نریندر مودی کی گھبراہٹ اس حقیقت کو بدل سکتی ہے۔

پاکستان ایک نظریے، قربانی اور ایمان کا نام ہے۔ یہ ملک دشمن کے پروپیگنڈے سے کبھی کمزور نہیں ہو سکتا۔ بھارتی میڈیا جتنی مرضی جھوٹی کہانیاں تراش لے، پاکستان کی عوام، افواج اور قیادت متحد ہیں۔ ہماری زمین، ہمارے آسمان اور ہماری سرحدیں اللہ کی امانت ہیں، اور اس امانت کی حفاظت کے لیے ہم ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ دنیا کو یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کی عزت اور وقار نہ دریاؤں کے پانی سے ڈوب سکتا ہے اور نہ دشمن کے پروپیگنڈے سے مٹ سکتا ہے۔ یہ قوم سرخرو بھی ہے اور ہمیشہ سرخرو رہے گی۔