ملک محمد اسحاق
پاکستان کا قیام محض ایک جغرافیائی خطے کے حصول کا نام نہیں تھا؛ یہ ایک ایسی ریاست کے قیام کی جدوجہد بھی تھی جہاں انسان کی عزت، جان و مال کا تحفظ، انصاف کی فراہمی اور قانون کی حکمرانی بنیادی اصول ہوں۔ اس ریاست میں طاقت کا سرچشمہ قانون ہونا چاہیے، اور قانون کا مقصد کمزور کو تحفظ، مظلوم کو انصاف اور طاقت ور کو جواب دہی کے دائرے میں لانا ہونا چاہیے۔ملتان میں پندرہ سالہ یتیم بچے وسیم عباس کی المناک موت اور اس مقدمے سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات نے کئی بنیادی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ان سوالات کو کسی سیاسی وابستگی، ادارہ جاتی حمایت یا مخالفت کے بجائے آئین، انسانی وقار اور انصاف کے مسلمہ اصولوں کی روشنی میں دیکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔وسیم عباس کے خاندان کو انصاف ملنا چاہیے، لیکن انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہر مرحلے پر قانون کی پابندی کی جائے اور کسی بھی شہری کی جان، آزادی اور بنیادی حقوق کو غیر اہم نہ سمجھا جائے۔
کسی معاشرے کی حقیقی ترقی کا اندازہ اس کی بلند عمارتوں، معاشی اعداد و شمار یا طاقت ور اداروں سے نہیں، بلکہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے کمزور ترین شہریوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔یتیم بچہ معاشرے کی خصوصی توجہ، تحفظ اور سرپرستی کا مستحق ہوتا ہے۔ اس کی تعلیم، تربیت، فنی مہارت، جسمانی سلامتی اور بہتر مستقبل کی ذمہ داری محض کسی ایک ادارے پر نہیں، بلکہ متعلقہ سرپرستوں، فلاحی اداروں، ریاستی محکموں اور پورے معاشرے پر عائد ہوتی ہے۔اگر وسیم عباس کسی فلاحی ادارے کی نگرانی میں رہ رہا تھا اور الیکٹریشن کا ہنر سیکھ رہا تھا، تو یہ جاننا ضروری ہے کہ اس کی تربیت کے انتظامات کیا تھے، اسے کس نگرانی میں کام کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا اور اس کے تحفظ کے لیے کون سے عملی اقدامات موجود تھے۔کیا متعلقہ ادارے کی رجسٹریشن اور نگرانی کے تقاضے پورے کیے گئے تھے؟ کیا بچے کو محفوظ ماحول فراہم کیا گیا تھا؟ کیا اس کی تربیت کسی باقاعدہ اور محفوظ پیشہ ورانہ نظام کے تحت ہو رہی تھی؟یہ سوالات کسی ادارے کو پیشگی مجرم قرار دینے کے لیے نہیں، بلکہ حقائق سامنے لانے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری ہیں۔ اگر غفلت، غیر قانونی مشقت، حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی یا کسی دوسرے جرم کے شواہد سامنے آئیں تو متعلقہ ذمہ داروں کا بھی قانون کے مطابق احتساب ہونا چاہیے۔
ایک مہذب معاشرے میں ملازم، شاگرد، مزدور اور زیرِ تربیت بچے کی حیثیت کسی کی ملکیت کی نہیں، بلکہ ایک آزاد انسان کی ہوتی ہے جس کے حقوق قانون تسلیم کرتا ہے۔اگر کسی بچے سے کام کے دوران غلطی ہو جائے، وہ کسی معاملے پر اختلاف کرے یا کام کی جگہ سے چلا جائے تو اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے قانونی اور انسانی طریقے موجود ہوتے ہیں۔ سرپرستوں کو اطلاع دینا، متعلقہ حکام سے رابطہ کرنا اور معاملے کو قانون کے مطابق حل کرنا انہی طریقوں میں شامل ہیں۔کسی بھی تنازعے کو تشدد، دھمکی یا غیر قانونی طاقت کے ذریعے حل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انسانی جان کی حرمت کسی کی دولت، سماجی حیثیت، عہدے یا اختیار کی محتاج نہیں۔اگر ارادی جرم ثابت ہوتا ہے تو ذمہ دار کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔ اگر غفلت ثابت ہو تو اس کے مطابق قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ تاہم کسی نتیجے تک پہنچنے سے پہلے تحقیقات، شواہد اور منصفانہ سماعت کے تقاضوں کو پورا کرنا لازم ہے۔نہ کسی سنگین الزام کو معمولی سمجھا جا سکتا ہے اور نہ کسی الزام کو ثبوت کے بغیر حتمی جرم قرار دیا جا سکتا ہے۔فراہم کردہ معلومات کے مطابق، اس مقدمے میں نامزد توقیر نذیر کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا اور جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا۔ بعدازاں 21 اکتوبر 2026 کو سی سی ڈی کی جانب سے مبینہ طور پر یہ اطلاع دی گئی کہ وہ حراست سے فرار ہوا اور بہاولپور میں پولیس مقابلے کے دوران مارا گیا۔ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لیے بغیر کسی فرد یا ادارے کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا۔ تاہم اگر یہ واقعات اسی ترتیب سے پیش آئے ہیں تو ان کی شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں۔جسمانی ریمانڈ پر موجود شخص حراست سے کیسے فرار ہوا؟ اس کی نگرانی کس کی ذمہ داری تھی؟ ملتان میں زیرِ تفتیش شخص بہاولپور کیسے پہنچا؟ مبینہ مقابلے کے حالات کیا تھے؟ کیا واقعے سے پہلے اور بعد کے تمام شواہد محفوظ کیے گئے؟ کیا اس کارروائی کی آزادانہ تحقیقات ہوئیں جن میں پولیس کے بیان اور دیگر شواہد کا تقابل کیا جا سکے؟یہ محض رسمی سوالات نہیں، بلکہ ریاستی اداروں کی جواب دہی اور شہریوں کے بنیادی حقوق سے متعلق سوالات ہیں۔ اگر پولیس کا مؤقف شواہد سے ثابت ہوتا ہے تو تحقیقات میں اس حقیقت کو واضح طور پر سامنے آنا چاہیے۔ اگر کسی اہلکار نے قانون سے تجاوز کیا ہو تو اس کا بھی بلاامتیاز احتساب ہونا چاہیے۔پولیس کا اختیار تفتیش اور قانون کے مطابق کارروائی کرنا ہے؛ جرم ثابت کرنے اور سزا دینے کا اختیار عدالتی نظام کے پاس ہے۔کسی زیرِ حراست شخص کی ہلاکت کو محض سرکاری بیان کی بنیاد پر غیر متنازع قرار دینا مناسب نہیں، اور تحقیق مکمل ہونے سے پہلے اسے لازماً ماورائے عدالت قتل قرار دینا بھی درست نہیں۔ ذمہ دارانہ مؤقف یہ ہے کہ حقائق کی آزادانہ جانچ ہو، شواہد محفوظ رہیں اور قانون کے مطابق نتیجہ اخذ کیا جائے۔جرائم کے خلاف مؤثر کارروائی کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ شہریوں کو ڈاکوؤں، قاتلوں، اغواکاروں اور منظم جرائم پیشہ عناصر سے تحفظ فراہم کرنا حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا فرض ہے۔لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے تفتیشی نظام، جدید فرانزک سہولیات، مؤثر استغاثہ، گواہوں کا تحفظ، عدالتی استعداد اور قانون کے یکساں نفاذ کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔اگر کسی معاشرے میں جرائم کے خلاف کارروائیوں کا جائزہ صرف گرفتار افراد یا پولیس مقابلوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سے لیا جانے لگے تو انصاف کے اصل معیار پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ حقیقی کامیابی یہ ہے کہ جرم کے شواہد جمع کیے جائیں، ذمہ داروں کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے، بے گناہ کو تحفظ ملے اور متاثرہ خاندان کو قانونی انصاف فراہم ہو۔یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا سی سی ڈی اور دیگر متعلقہ اداروں کے اختیارات، طریقہ کار اور نگرانی کا ایسا مؤثر نظام موجود ہے جو ہر کارروائی کو قانون کے دائرے میں رکھ سکے؟ کسی بھی ادارے کو اتنی غیر محدود قوت نہیں ملنی چاہیے کہ تفتیش، الزام، فیصلہ اور سزا کے مراحل عملاً ایک ہی جگہ سمٹ جائیں۔ریاستی طاقت کا مؤثر استعمال اور اس طاقت پر قانونی نگرانی ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔ مؤثر ادارے وہی ہوتے ہیں جن کے اختیارات واضح، کارروائیاں شفاف اور غلطیوں پر احتساب یقینی ہو۔
انسانی حقوق کے تحفظ کا مطلب کسی ملزم کو بری الذمہ قرار دینا نہیں، اور نہ کسی سرکاری ادارے کی ہر کارروائی کی مخالفت کرنا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ انصاف کے تقاضے ہر شخص کے لیے یکساں ہوں۔وسیم عباس کے خاندان کو انصاف ملنا چاہیے۔ اگر کسی نے اس بچے کے ساتھ ظلم کیا تو اسے قانون کے مطابق جواب دہ ہونا چاہیے۔ اگر فلاحی ادارے کی غفلت سامنے آئے تو اس کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ اور اگر کسی زیرِ حراست شخص کی ہلاکت کے حالات میں قانون سے تجاوز ثابت ہو تو اس کے ذمہ داروں کو بھی جواب دہ ہونا چاہیے۔یہ الگ الگ ذمہ داریاں نہیں، بلکہ ایک ہی اصول کے مختلف پہلو ہیں: ریاست میں کسی کی جان، عزت اور آزادی کو غیر قانونی طور پر پامال نہیں کیا جا سکتا۔انسانی حقوق کی اصل آزمائش اس وقت ہوتی ہے جب معاشرہ کسی شخص کے خلاف شدید غصے میں ہو۔ ایک مضبوط نظامِ انصاف وہی ہے جو عوامی جذبات کا احترام کرتے ہوئے بھی قانون، شواہد اور منصفانہ سماعت سے انحراف نہ کرے۔