واشنگٹن (آئی این پی ) ایک تازہ سائنسی مطالعات میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ مرنے کے عمل کے دوران دماغی سرگرمی برقرار رہتی ہے اور اس میں توانائی کے غیر متوقع اضافے دیکھے گئے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ سپائکس اس بات کا اشارہ ہو سکتے ہیں کہ روح جسم کو چھوڑ رہی ہے۔ مرنے والے مریضوں کے دماغی برقیاتی خاکے کا تجزیہ کرنے پر محققین کو گیما لہروں کی سرگرمی ملی، جو عام طور پر شعوری افعال سے جڑی ہوتی ہیں، اور یہ دریافت زندگی کے بعد کے اسرار کے بارے میں نئی بصیرت فراہم کر سکتی ہے۔ یونی ورسٹی آف ایریزونا کے ماہر اینستھیزیالوجی اور نفسیات کے پروفیسر ڈاکٹر سٹورٹ ہیمر آف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ حالیہ تحقیق کے مطابق ایک طبی طور پر مردہ مریض کے دماغ میں دیکھے جانے والے توانائی کے دھماکے ممکنہ طور پر اس کی روح کے جسم سے نکلنے کی علامت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "جب مریض کے جسم میں زندگی کے کوئی آثار نہیں ہوتے، تو اس وقت ای ای جی میں دماغی سرگرمی کا اچانک ابھرنا حیران کن ہے۔