بنگلا دیش میں طلبہ کے قتل عام کا حکم شیخ حسینہ نے خود دیا، لیک آڈیو میں انکشاف

جہاں بھی نظر آئیں، دیکھتے ہی گولی مارو، مہلک ہتھیار استعمال کرو، آڈیوکی بی بی سی نے تصدیق کردی
ڈھاکا (آئی این پی )برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گذشتہ سال بنگلا دیش میں طلبہ مظاہرین کے خلاف خونریز کریک ڈائون کا حکم سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے خود دیا تھا۔ یہ انکشاف ایک لیک شدہ آڈیو کے ذریعے ہوا ہے، جس کی بی بی سی نے تصدیق کی ہے۔رپورٹ کے مطابق شیخ حسینہ نے 18جولائی 2024کو ڈھاکا میں اپنی رہائش گاہ گنابھون سے ایک اعلیٰ سرکاری افسر کو فون پر ہدایت دی کہ مظاہرین کو دیکھتے ہی گولی مار دی جائے۔ آڈیو میں حسینہ کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ جہاں بھی نظر آئیں، وہیں مارو، مہلک ہتھیار استعمال کرو۔رپورٹ کے مطابق اس کے چند گھنٹوں بعددارالحکومت ڈھاکا میں سکیورٹی فورسز نے فوجی طرز کے رائفلز کا استعمال طلبہ کے خلاف کیا، جس کی تصدیق پولیس دستاویزات سے بھی ہوئی ہے۔شیخ حسینہ کے خلاف قتل عام کے الزامات میں بنگلا دیش کے خصوصی بین الاقوامی فوجداری ٹربیونل میں مقدمہ چل رہا ہے۔ استغاثہ نے واضح کیا ہے کہ یہ آڈیو مرکزی ثبوت کے طور پر پیش کی جائے گی۔برطانیہ میں مقیم انسانی حقوق کے ماہر اور بنگلا دیشی ٹربیونل کے مشیر ٹوبی کیڈمین کے مطابق یہ ریکارڈنگ نہایت اہم ہے۔ اس میں حسینہ کی آواز واضح ہے، مواد مستند ہے، اور دیگر شواہد سے بھی ہم آہنگ ہے۔