ترقی کیلئے بہتر پوزیشن میں ہیں، پاکستان کی بڑی فری لانس افرادی قوت گہرے تعاون کے وسیع مواقع فراہم کرتی ہے، بشرطیکہ مہارتوں کی ترقی طلب کے مطابق کی جائے
چیلنج صرف قرض کے حجم کو سنبھالنا نہیں ہے، یہ بھی یقینی بنانا ہے وقتی مالی دباؤ، دیوالیہ پن کے بحران میں تبدیل نہ ہو:محمد اورنگزیب کا عرب نیوز کوانٹرویو‘کانفرنس سے خطاب
اسلام آباد(آئی این پی‘آن لائن ) وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے سعودی عرب کو پاکستان کا دیرینہ شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہاہے عالمی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مضبوط اور مستحکم ہیں۔ العلا میں منعقدہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کی کانفرنس کے موقع پر عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا سعودی عرب طویل عرصے سے پاکستان کا شراکت دار رہا ہے، اور ہم مشکل اور اچھے دونوں ادوار میں ملنے والی حمایت پر بے حد شکر گزار ہیں۔ اب جبکہ ہم میکرو اکنامک استحکام حاصل کر چکے ہیں، میرا خیال ہے کہ ہم ترقی کیلئے بہتر پوزیشن میں ہیں۔وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ اس شراکت داری کے تحت معدنیات و کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت اور سیاحت سمیت کئی شعبوں میں سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ انہوں نے سعودی کمپنی وافی کی پاکستان کے ڈائون سٹریم آئل اینڈ گیس سیکٹر میں شمولیت کو فعال سعودی سرمایہ کاری کی مثال قرار دیا۔ان کا کہنا تھا سعودی عرب نے کھل کر پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی ہے خصوصا معدنیات و کان کنی، آئی ٹی، زراعت اور سیاحت کے شعبوں میں۔ ان شعبوں میں سرمایہ کاری پہلے ہی آ چکی ہے، مثلا وافی کی جانب سے ڈان سٹریم آئل اینڈ گیس اسٹیشنز میں سرمایہ کاری۔ اس وقت سرمایہ کاری کا ایک نہایت متحرک پائپ لائن موجود ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ ان شعبوں میں ترقی نجی شعبے کی سرگرمیوں سے ممکن ہو رہی ہے، جبکہ حکومت سے حکومت کے درمیان تعاون بنیادی طور پر انفراسٹرکچر کی ترقی پر مرکوز ہے‘دریں اثناء سعودی عرب میں منعقدہ العلا کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا عالمی سطح پر سرکاری قرضے تاریخی بلند ترین سطح پر ہیں، اصل پالیسی چیلنج صرف قرض کے حجم کو سنبھالنا نہیں ہے، یہ بھی یقینی بنانا ہے وقتی مالی دباؤ، دیوالیہ پن کے بحران میں تبدیل نہ ہو۔ ترقی پذیر معیشتیں بلند قرض جاتی ادائیگیوں، سخت مالی حالات سامنا کر رہی ہیں۔انہوںنے کہا اصل پالیسی چیلنج صرف قرض کے حجم کو سنبھالنا نہیں ہے، یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ وقتی مالی دباؤ، دیوالیہ پن کے بحران میں تبدیل نہ ہو جبکہ ترقیاتی اور سماجی اخراجات کا تحفظ بھی برقرار رہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ معاشی استحکام ترقی کا دشمن نہیں بلکہ پائیدار اور دیرپا اقتصادی نمو کی بنیاد ہے، پاکستان کا حالیہ تجربہ اس حقیقت کی بھرپور تصدیق کرتا ہے، پاکستان نے معاشی استحکام کی بحالی کی جانب بامعنی پیش رفت کی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے عوامی قرض قابو میں رکھنے اور بہتر انداز میں منظم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے،تین برسوں کے دوران قرضہ جی ڈی پی تناسب تقریبا 74 فیصد سے کم ہو کر 70 فیصد کے قریب آ گیا ہے، پاکستان کا بیرونی قرضہ جی ڈی پی تناسب مستحکم رہا، سودی اخراجات میں بچت، قرض ادائیگیوں میں توازن اور ری فنانسنگ کے خطرات میں کمی آئی ہے