ایبٹ آباد میں اغوا کے بعد قتل ڈاکٹر وردہ کی پوسٹ مارٹم رپوٹ سامنے آگئی
وردہ نے 67 تولہ سونا ساتھی ڈاکٹر کے سپرد کیا ، واپس نہ ملنے پر تنازع شدت اختیار کر گیا
ملزمان نے ڈاکٹر وردہ کو اغوا اور قتل کرکے لاش لاری بنوٹا جنگل میں چھپائی،نیٹ ورک بے نقاب
کیس کی حساسیت اور عوامی غم و غصے کے باعث جے آئی ٹی تشکیل دینے کی سفارش کی گئی
ایبٹ آباد: (خصوصی رپورٹ) ایبٹ آباد میں اغوا کے بعد قتل ہونیوالی ڈاکٹر وردہ کی پوسٹ مارٹم رپوٹ سامنے آگئی۔رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر وردہ کی موت دم گھٹنے سے ہوئی، ان کی گردن کی ہڈی بھی ٹوٹی ہوئی تھی۔ایبٹ آباد کے بے نظیر ہسپتال کی ڈاکٹر کو مبینہ طور پر اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا تھا، ڈاکٹر وردہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ فارنزک تجزیے کے لیے بھیج دی گئی۔لیڈی ڈاکٹر وردہ مشتاق قتل کیس میں جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی منظوری سے خط چیف سیکرٹری کو ارسال کر دیا گیا۔خط میں کیس کی حساسیت اور عوامی غم و غصے کے باعث جے آئی ٹی تشکیل دینے کی سفارش کی گئی ہے، جے آئی ٹی کی سربراہی صوبائی حکومت کے سینئرسول افسر کے سپرد کرنے کی تجویز ہے۔خط میں جے آئی ٹی میں سی ٹی ڈی، سپیشل برانچ، ایبٹ آباد پولیس اور پراسیکیوشن کی شمولیت کی سفارش کی گئی ہے۔چیف سیکرٹری کو ارسال کردہ خط میں کہا گیاہے کہ ڈاکٹر وردہ 4 دسمبر کو لاپتا ہوئیں، 5 دسمبر کو ایف آئی آر درج کی گئی، ڈاکٹر وردہ نے 67 تولہ سونا ساتھی ڈاکٹر کے سپرد کیا تھا، واپس نہ ملنے پر تنازع شدت اختیار کر گیا۔خط میں کہا گیا کہ پولیس کے مطابق ملزمان نے ڈاکٹر وردہ کو اغوا اور قتل کرکے لاش لاری بنوٹا جنگل میں چھپائی، سی سی ٹی وی، سی ڈی آرز اور تفتیش سے ملزمان کا پورا نیٹ ورک بے نقاب ہوا۔خط کے مطابق ایبٹ آباد پولیس نے تین ملزمان گرفتارکرلیے، مرکزی ملزم کی تلاش جاری ہے، مزید جامع، آزاد اور ملٹی ایجنسی انکوائری کیلئے جے آئی ٹی ضروری قرار دی گئی ہے۔