اسلام آباد ہائی کورٹ کیجانب سے ججز کی تعیناتی کی سمری رکنے پر صدر اور وزیراعظم کو نوٹس جاری

اسلام آباد ہائی کورٹ کیجانب سے ججز کی تعیناتی کی سمری رکنے پر صدر اور وزیراعظم کو نوٹس جاری

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نئے ججز کی تعیناتی سے متعلق سمری کی منظوری نہ ہونے کے تنازع پر اہم حکم جاری کیا ہے۔

 عدالت نے وزیر اعظم اور صدر کو سیکرٹریز کے ذریعے کل کے لیے نوٹس جاری کیے ہیں تاکہ اس معاملے پر وضاحت طلب کی جا سکے۔عدالت کا کہنا ہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے سمری کی منظوری نہ ہونے کے خلاف درخواست پر نوٹس جاری کیے گئے ہیں، اور اس کے ساتھ ہی وزارت قانون کو بھی کل کے لیے نوٹس بھیج دیا گیا ہے تاکہ جواب طلب کیا جا سکے۔سماعت کے دوران عدالت نے سوال کیا کہ یہ سمری کس مرحلے پر رک گئی ہے؟ اس حوالے سے وضاحت طلب کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ نئے ججز کی تعیناتی کا معاملہ لٹک رہا ہے۔درخواست گزار لقمان ظفر کے وکیل زاہد آصف چوہدری نے دلائل دیے کہ آئین واضح ہے اور اگر وقت گزر جائے تو صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ سمری کو مسترد کر سکتا ہے۔ دوسری جانب، ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ نے بتایا کہ صدر اب سمری کو مسترد بھی نہیں کر سکتے۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے وفاقی حکومت پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ وفاقی حکومت اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔ انہوں نے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت نے 15 دن گزرنے کے بعد اب تک کیا اقدامات کیے ہیں، کیونکہ یہ معاملہ بہت حساس اور اہم ہے اور اس میں تاخیر قابل قبول نہیں ہے۔عدالت نے وفاقی حکومت سے کل تک جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی ہے۔ اس دوران، یہ معاملہ حکومت کی جانب سے جلد کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ ججز کی تعیناتی کا عمل مکمل کیا جا سکے اور عدلیہ کی کارکردگی کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔