ٹماٹر 450، انور رٹول آم 650 روپے کلو تک فروخت ہوتے رہے، سرکاری نرخ نظرانداز،شہریوں کا کارروائی کا مطالبہ
لاہور ( خصوصی رپورٹ)اوپن مارکیٹ میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں اتار چڑھا ئو کا سلسلہ جاری ہے، موسمی پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں 30 سے 310 روپے فی کلو تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ دکاندار سرکاری نرخ نامے کے بجائے من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں۔قیمتوں میں اضافے کے باعث عام آدمی کیلئے روزمرہ استعمال کی سبزیاں اور موسمی پھل خریدنا مشکل ہوگیا ہے۔ شہریوں کے مطابق سرکاری نرخ نامہ موجود ہونے کے باوجود مارکیٹ میں اس پر م ئوثر عملدر آمد نہیں ہو رہا۔مارکیٹ میں آلو کی سرکاری قیمت 33 روپے مقرر ہے، تاہم یہ 60 سے 70 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں۔ پیاز کی سرکاری قیمت 155 روپے مقرر ہونے کے باوجود 120 سے 150 روپے فی کلو میں دستیاب ہے۔ٹماٹر کی سرکاری قیمت 240 روپے مقرر ہے، تاہم اوپن مارکیٹ میں 450 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہے ہیں۔ بھنڈی 170 روپے کے مقابلے میں 240 روپے جبکہ کریلے 120 روپے کے بجائے 220 روپے فی کلو فروخت کیے جا رہے ہیں۔دیسی ٹینڈے کی سرکاری قیمت 160 روپے مقرر ہے، لیکن مارکیٹ میں 250 روپے فی کلو تک وصول کیے جا رہے ہیں۔ میتھی 220 روپے کے مقابلے میں 280 سے 320 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔پھلوں میں چونسہ آم کی سرکاری قیمت 310 روپے مقرر ہونے کے باوجود 450 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے، جبکہ انور رٹول آم کی سرکاری قیمت 345 روپے کے مقابلے میں 650 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔دیسی نیا انار کی سرکاری قیمت 265 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم یہ اوپن مارکیٹ میں دستیاب نہیں۔ کیلے کی سرکاری قیمت 210 روپے فی درجن کے مقابلے میں 250 روپے فی درجن جبکہ گرما 170 روپے کے بجائے 230 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ نامہ صرف کاغذوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، دکاندار اپنی مرضی کے نرخ وصول کر رہے ہیں۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری نرخ نامے پر م ئوثر عملدر آمد یقینی بنایا جائے اور زائد قیمت وصول کرنے والے دکانداروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔