مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، برطانیہ میں کینسر اور بلڈ پریشر کی ادویات کی قلت کا خدشہ

مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، برطانیہ میں کینسر اور بلڈ پریشر کی ادویات کی قلت کا خدشہ

لندن: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث برطانیہ میں اہم ادویات کی فراہمی متاثر ہونے لگی ہے، جبکہ فارمیسیز کی نمائندہ تنظیم نے متعدد ضروری ادویات کی ممکنہ قلت سے خبردار کردیا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق برٹش انڈیپنڈنٹ فارمیسیز ایسوسی ایشن (بی آئی پی اے) نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کئی اہم ادویات کے ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہو رہی ہے، جس کے باعث مریضوں کو مستقبل میں ادویات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔تنظیم کے مطابق برطانیہ اپنی تقریباً تین چوتھائی ادویات بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی سطح پر تجارتی اور ترسیلی نظام میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں براہ راست ادویات کی دستیابی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری نقل و حمل سے متعلق خدشات نے پہلے سے دباؤ کا شکار سپلائی چین کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔فارمیسیز کی نمائندہ تنظیم کا کہنا ہے کہ ادویات کی فراہمی صرف تیار شدہ دواؤں کی درآمد پر منحصر نہیں بلکہ ان کی تیاری کے لیے درکار خام مال اور فعال اجزا بھی مختلف ممالک سے حاصل کیے جاتے ہیں۔تنظیم کے مطابق یورپی یونین سے درآمد کی جانے والی متعدد ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والا خام مال چین اور بھارت سے آتا ہے۔ عالمی تجارت اور نقل و حمل میں رکاوٹوں کے باعث ان اجزا کی بروقت فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں ادویات کی تیاری اور دستیابی دونوں متاثر ہوسکتی ہیں۔

بی آئی پی اے نے جن ادویات کی قلت کے حوالے سے تشویش ظاہر کی ہے ان میں بلڈ پریشر کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی بعض اہم دوائیں، کینسر کے مریضوں کے لیے درد کم کرنے والی ادویات اور کولیسٹرول کی سطح کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی دوائیں شامل ہیں۔ماہرین کے مطابق ادویات کی سپلائی میں طویل رکاوٹ پیدا ہونے کی صورت میں دائمی امراض میں مبتلا مریضوں کو خصوصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ ایسے مریضوں کو مسلسل اور باقاعدگی سے ادویات کی ضرورت ہوتی ہے۔دوسری جانب آبنائے ہرمز عالمی توانائی اور تجارتی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔ یہاں جہاز رانی میں رکاوٹوں یا غیر یقینی صورتحال کے باعث نہ صرف تیل اور گیس بلکہ دیگر اشیا کی عالمی ترسیل اور لاگت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔