امریکی ڈیموکریٹس نے سابق اٹارنی جنرل پام بونڈی کو جیفری ایپسٹین کیس کی سماعت میں پیش نہ ہونے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان کے مؤقف پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ایوانِ نمائندگان کی نگرانی کمیٹی کے مطابق پام بونڈی کو گزشتہ ماہ طلبی کا نوٹس جاری کیا گیا تھا تاکہ وہ “ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ” کے تحت جیفری ایپسٹین سے متعلق سرکاری دستاویزات کی اشاعت پر وضاحت دیں۔محکمۂ انصاف کا کہنا ہے کہ چونکہ پام بونڈی اب اپنے عہدے پر فائز نہیں ہیں، اس لیے وہ گواہی دینے کی پابند نہیں، تاہم ڈیموکریٹس کا مؤقف ہے کہ عہدہ چھوڑنے سے قانونی جواب دہی ختم نہیں ہوتی۔کانگریس رکن رابرٹ گارسیا نے خبردار کیا ہے کہ اگر پام بونڈی پیش نہ ہوئیں تو انہیں کانگریس کی توہین کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب ڈیموکریٹ رکن رو کھنہ اور ریپبلکن نینسی میس نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ عوام کو حقائق جاننے کا حق حاصل ہے اور یہ واضح ہونا چاہیے کہ آیا ماضی میں کانگریس کو گمراہ کیا گیا تھا یا نہیں۔یاد رہے کہ بدنامِ زمانہ مالی و جنسی مجرم جیفری ایپسٹین 2019 میں جیل میں مردہ پایا گیا تھا، جس کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا، تاہم یہ کیس آج بھی امریکہ میں شدید تنازع اور سوالات کا مرکز بنا ہوا ہے۔