اسلام آباد اس وقت دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے جہاں امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کا آغاز آج سے ہو رہا ہے۔
جنگ بندی کے بعد یہ پیش رفت خطے میں امن کی جانب ایک بڑی پیش قدمی قرار دی جا رہی ہے، جبکہ پاکستان اس سفارتی عمل میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات کی کامیابی کے حوالے سے امید ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ مقام کا دورہ کیا اور سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کردار ادا کر رہا ہے اور یہ مذاکرات مثبت نتائج دے سکتے ہیں۔امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے جبکہ ان کے ہمراہ نمایاں شخصیات سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شریک ہوں گے۔ دوسری جانب ایران کی نمائندگی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے۔
مزید برآں، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کی ملاقات بھی ہوئی، جس میں اس اہم سفارتی دورے اور سکیورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ حکام کے مطابق امریکی وفد کو پاکستان میں خصوصی مہمان کا درجہ دیا جائے گا۔وائٹ ہاؤس ذرائع کے مطابق مذاکرات بند کمروں میں ہوں گے اور ان میں حساس امور زیر بحث آئیں گے، جبکہ امریکا کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی معاہدے میں قومی مفادات کو اولین ترجیح دی جائے گی۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بات چیت نہ صرف امریکا اور ایران کے تعلقات بلکہ مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔