الیکٹرک ٹرانسپورٹ کا دائرہ وسیع کرنے کی تیاری

ہزاروں ای بائیکس اور مزید گیارہ سو الیکٹرک بسیں لانے کا منصوبہ انفراسٹرکچر مرحلہ وار اپ گریڈ کیا جا رہا :وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر 
لاہور ( مانیٹرنگ ڈیسک )پنجاب میں الیکٹرک ٹرانسپورٹ کا دائرہ وسیع کرنے کی تیاری، ہزاروں ای بائیکس اور مزید گیارہ سو الیکٹرک بسیں لانے کا منصوبہ بنا لیا گیا۔مگر الیکٹرک گاڑیاں سڑکوں پر آنے سے پہلے چارجنگ انفراسٹرکچر کا سوال بدستور موجود ہے، لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں مطلوبہ چارجنگ سٹیشنز کی تنصیب مکمل نہ ہوسکی۔حکومتی منصوبہ بندی کے مطابق الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے مکمل انفراسٹرکچر کی تیاری کے لیے تقریباً پچاس ارب روپے درکار ہیں،تاہم اس شعبے میں عملی پیش رفت تاحال محدود دکھائی دیتی ہے۔پنجاب میں الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے بڑھتے دائرہ کار کے باعث بجلی کی موجودہ سپلائی پر چارجنگ کا انحصار بھی اہم معاملہ بن گیا ہے،حکومت کو بڑے پیمانے پر الیکٹرک گاڑیوں کی آمد کے ساتھ چارجنگ نیٹ ورک بھی وسعت دینا ہوگا۔طلبہ میں ای بائیکس کی بڑے پیمانے پر تقسیم کی تیاری کے دوران بھی بنیادی سوال یہی ہے کہ مختلف علاقوں میں انہیں چارج کرنے کے لیے مطلوبہ سہولتیں کب دستیاب ہوں گی۔ حکومت کی جانب سے تاہم مئوقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے ساتھ چارجنگ انفراسٹرکچر کو بھی مرحلہ وار بہتر بنایا جا رہا ہے۔صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان کے مطابق الیکٹرک انفراسٹرکچر مرحلہ وار اپ گریڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ انفراسٹرکچر اپ گریڈیشن کا منصوبہ رواں مالی سال میں شامل ہے۔