سمیع اللہ ملک (پہلی قسط)
یہ پہلاموقع تھاکہ وائٹ ہاس میں بیٹھے امریکی صدرجس کے پاس ایٹمی بریف کیس کابٹن دبانے کی مکمل طاقت ہے،اس کے بارے میں امریکی الیکٹرانک میڈیاپرببانگ دہل ایک امریکی ماہرنفسیات دلائل کے ساتھ ٹرمپ کی دماغی صحت پراپنے شک وشبہ کااظہارکرتے ہوئے اپنے خدشات کااظہارکررہی تھی جس سے تمام دفاعی اورسیاسی تجزیہ نگاروں میں ایک خوف کی لہردوڑگئی تھی۔ماہرنفسیات ڈاکٹرکاکہناتھاکہ ڈونلڈٹرمپ نے جب سے امریکی صدرکامنصب سنبھالاہے تب سے وہ ایسابہت کچھ کررہے ہیں جو امریکاکوایک عظیم طاقت بنانے والے عوامل کے خلاف ہے۔انہوں نے قدم قدم پرایسی باتیں اورحرکتیں کی ہیں جوان کے منصب کے تقاضوں سے کسی بھی طورمیل نہیں کھاتیں۔ان کی کوشش رہی ہے کہ جوکھلنڈراپن ان کے مزاج میں پایاجاتاہے وہ امریکی صدرکے منصب میں بھی دکھائی دے۔امریکاکوایک عظیم طاقت میں تبدیل کرنے والے اصولوں،طریقوں اور خواص کوانہوں نے نشانے پرلینے کی کوشش کی ہے اوریہ بات اب بیشترامریکی زیادہ شدت سے محسوس کرتے ہیں۔
عالمی سیاست کے حوالے سے کوئی بھی پیش گوئی انتہائی دشوارکام ہے۔حالات اتنی تیزی سے بدلتے ہیں کہ ہرپیش گوئی خطرے میں پڑجاتی ہے اورٹرمپ کامعاملہ توہمیشہ سے پیچیدہ رہاہے۔ٹرمپ کے دورِ صدارت میں پہلے ایک سال کے دوران ایسابہت کچھ ہواجس کی بنیاد پران کے بارے میں پورے یقین سے کچھ کہناانتہائی دشوارہوگیاتھا۔ پیش گوئی کرنے والوں کوبھی اندازہ تھاکہ وہ اگرکچھ کہیں گے توٹرمپ اس کے خلاف کچھ نہ کچھ کرکے انہیں ناکامی و ذلت سے دوچارکردیگا۔یہ بات البتہ پورے یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ مورخین جب ٹرمپ کے ادوارکے بارے میں لکھیں گے تواس نکتے پرضرورزوردیں گے کہ انہوں نے اپنے کھلنڈرے مزاج سے وہ نظم وضبط تباہ کردیاجوامریکی صدرکیلئے لازم قراردیاجاتاتھا۔اب تک انہوں نے بہت کچھ اپنی خواہش کے اصول کی بنیادپرکیا،جس کے نتیجے میں امریکاکوکئی معاملات میں تھوڑی بہت سبکی کابھی سامناکرناپڑا۔اس کوسب نے محسوس کیاکہ ٹرمپ کے پاس اپناکوئی وژن نہیں تھا۔وہ کوئی ایسی ’’گرینڈ اسٹریٹجی‘‘ تیارکرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے جس کی بنیاد پر کہاجاسکتاکہ وہ امریکی معاشرے اور قیادت کے ڈھانچے کوکوئی باضابطہ نئی شکل دینااوربحرانوں سے نکالنا چاہتاتھا۔ اس حوالے سے ان کی سنجیدگی کاگراف خاصا نیچارہا۔
کسی بھی ملک کیلئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اس کی کوئی واضح اوربڑی حکمت عملی نہ ہو۔اس مرحلے سے گزرے بغیرکوئی بھی ریاست ترقی توکیاکرے گی،اپنا وجود بھی برقرارنہ رکھ پائے گی۔امریکاکوئی عام ملک نہیں،عالمی طاقت ہے۔اس کیلئے تو قیادت کے ڈھانچے کامضبوط ہونااوربیشتربین الاقوامی معاملات میں واضح حکمت عملی کاہونالازم ہے۔امریکا میں ایک زمانے سے عظیم،ہمہ گیرحکمت عملی اپنانے کارجحان رہاہے اوریہ رجحان محض اپنی پسندکانہیں بلکہ مجبوری اورلازم ہے۔امریکاسپر پاورہے،اسے کئی ممالک سے خصوصی تعلقات استواررکھناپڑتے ہیں۔ہرخطے پرنظررکھناپڑتی ہے۔کسی بھی صدرکیلئے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ ملک کیگرینڈاسٹریٹجی سے ہٹ کرکچھ کرے۔ وہ اگرنمایاں حدتک بصیرت سے محروم ہواورمستقبلِ بعید کے بارے میں سوچنے اوراس حوالے سے کوئی واضح منصوبہ تیارکرنے کااہل نہ ہوتب بھی اسے حکمت عملی کے حوالے سے بہت سے معاملات میں غیرمعمولی دلچسپی لیناہی پڑتی ہے۔ڈونلڈٹرمپ بظاہربصیرت کے حامل نہیں مگران کیلئے بھی ممکن نہیں تھاکہ ملک کی گرینڈاسٹریٹجی کونظراندازکرتے یااس سے مطابقت رکھنے والے اقدامات نہ کرتے۔ لیون ٹراٹسکی نے خوب کہاہے کہ اگرکوئی صدر گرینڈ اسٹریٹجی میں زیادہ دلچسپی نہ لیتاہوتب بھی گرینڈ اسٹریٹجی تواس میں دلچسپی لیتی ہی ہے۔یعنی پیچھے ہٹنے کی گنجائش نہیں، صرف بڑھنے کاآپشن ہے۔
یہ نکتہ کسی بھی طورنظراندازنہیں کیاجاسکتاکہ ٹرمپ نے ایک اہم موقع پرامریکا کی صدارت سنبھالی تھی۔ ان کے انتخاب سے پہلے کے70برسوں میں امریکانے دوسری عالمی جنگ عظیم کے بعد سے ایک ایسی طاقت کاکرداراداکیاتھاجوپوری دنیاکو ایک نئے سانچے میں ڈھالنے کابھرپورعزم اورتوانائی رکھتی تھی۔امریکانے کئی خطوں کواپنی مرضی کے مطابق تبدیل کیا۔متعدد ممالک کوتعمیروترقی کی نئی جہتوں سے آشناکیااوردوسری طرف کئی ممالک امریکاکے ہاتھوں خرابیوں سے بھی دوچارہوئے۔ 1990میں سردجنگ کے خاتمے کے بعدامریکاچونکہ واحدسپرپاورتھااس لیے اس کی ذمہ داریاں بھی بڑھ گئیں۔تقریبا تین عشروں پرمحیط اس مدت کے دوران امریکانے اچھاکم اوربرازیادہ کیاہے۔بعض مواقع پر صاف محسوس کیاگیاکہ امریکا کیلئے معاملات الجھے ہوئے ہیں اوروہ جوکچھ بھی کررہاہے،اس کی پشت پریاتوبدحواسی ہے یاپھرخوف۔
امریکی دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ حقیقت بھی نظراندازنہیں کی جاسکتی کہ ٹرمپ ایک ایسے وقت امریکاکے صدر منتخب ہوئے،جب چین اپنی پوری قوت کے ساتھ ابھرکرسامنے آچکاتھا۔چین ایک بڑاچیلنج ہے جس سے نمٹنے کیلئے امریکاکواپنی گرینڈ اسٹریٹجی تبدیل کرناپڑے گی۔ایک طرف جہاں چین نے امریکاکی عسکری ومعاشی بالادستی کیلئے بہت بڑے چیلنج کی حیثیت اختیارکرلی ہے،وہاں خطے میں پاکستان جیسااہم اتحادی جس نے امریکاکودنیاکی واحدسپرپاوربننے میں اہم کرداراداکیا،سب کوعلم ہے کہ کشمیرمیں جاری ظلم وستم اور پاکستان میں دہشتگردی کی بنا پر بھارت کے ساتھ تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں لیکن امریکی بے وفائی اوربھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھانے اورافغانستان میں بدترین ہزیمت وشکست کے بعدپاکستان پربلاوجہ دباؤڈالنے کی غلط پالیسی اختیارکرنے کی بناپربھی سخت دھچکالگاہے اورردعمل میں خطے میں چین،پاکستان،روس اورایران کا ایک مضبوط بلاک بھی تشکیل پاچکاہے۔
ایک طرف چین نے امریکاکی عسکری ومعاشی بالادستی کیلئے بہت بڑے چیلنج کی حیثیت اختیارکی ہے اوردوسری طرف مشرق وسطی میں بھی صورتِ حال بہت تیزی سے تبدیل ہورہی ہے جوامریکا کیلئے مشکلات پیداکررہی ہے۔یہ نکتہ بھی ذہن نشین رہے کہ دنیابھرمیں جمہوریت کوبہترطرزِحکمرانی کی حیثیت سے قبول نہ کرنے کارجحان پروان چڑھ رہاہے۔عام آدمی یہ سوچنے پر مجبورہے کہ اگرآمریت اس کے مسائل حل کردے توجمہوریت کی کیاضرورت ہے؟
کئی عشروں سے امریکاعالمی سیاست ومعیشت پربلاشرکتِ غیرے متصرف رہاہے۔اس نے یورپ کوساتھ ملاکر اپنی مرضی کے فیصلے کیے ہیں اوران فیصلوں کاپھل بھی کھایاہے مگراب بہت کچھ بدل گیاہے۔کئی ممالک تیزی سے مضبوط ہوکرابھرے ہیں۔ یورپ نے اپنی راہ بہت حد تک الگ کرلی ہے۔چین،روس،برازیل،جنوبی افریقااوردوسرے بہت سے ممالک تیزی سے مستحکم ہوئے ہیں۔ان کااستحکام امریکی بالادستی کیلئے واضح خطرے کی شکل میں ابھراہے۔یہ سوال امریکامیں بھی جڑپکڑچکاہے کہ عالمی سیاست ومعیشت میں اب امریکاکیلئے کیارہ گیاہے۔موجودہ صدارتی انتخاب میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ عالمی سطح پرامریکاکوبرترحیثیت برقراررکھنے کے قابل کس طوربنایاجائے۔سیدھی سی بات ہے،چیلنجزبڑھ چکے ہیں۔ حکمت عملی میں غیر معمولی تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔ٹرمپ نے اپنے دورِ حکومت میں ایسا کچھ نہیں کیاجس سے اندازہ لگایاجاسکے کہ وہ آئندہ امریکاکو نئی بلندیوں پر لے جانے کی بھرپورصلاحیت رکھتے ہیں۔وہ بظاہراس سیاسی بصیرت سے محروم دکھائی دیئے جوکسی امریکی صدرکیلئے لازم سمجھی جاتی ہے مگراس کا یہ مطلب بھی ہرگزنہیں کہ وہ اپنی شخصیت کاکوئی تاثرچھوڑنے میں مکمل ناکام رہے ہیں۔چند ایک معاملات میں انہوں نے بڑھک سے ہٹ کرعمل کے میدان میں اعتدال پسندی کاثبوت دیاہے مگرمجموعی طورپروہ اپنے اقوال واعمال سے امریکی فکرکومتاثرکرنے میں تھوڑے بہت کامیاب ضرورہوئے ہیں۔یہ بات محسوس کی جارہی ہے کہ امریکانے جن اصولوں اور طریق کارکواپناکراب تک عالمی سیاست ومعیشت میں اپنی بالادستی کسی نہ کسی طور برقرار رکھی ہے انہیں ٹرمپ نے متاثر کرنے کی کوشش کی ہے اورکسی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ٹرمپ کادعوی ہے کہ جوکچھ وہ سوچتے اورکرتے ہیں اس سے امریکا کی طاقت اوردولت میں غیرمعمولی اضافہ ہوگااورعالمی سیاست ومعیشت میں امریکی بالا دستی برقراررہے گی مگردرحقیقت ان کی پالیسیوں سے امریکاکونقصان پہنچاہے۔(جاری ہے)