سفارتی کوششیں ناکافی، دشمن کے مقابلے میں فوج کو خراج تحسین: فضل الرحمان

سفارتی کوششیں ناکافی، دشمن کے مقابلے میں فوج کو خراج تحسین: فضل الرحمان

اسلام آباد: مولانا فضل الرحمان کی قومی اسمبلی میں جاندار تقریر — سفارتی کوششوں پر عدم اطمینان، پاک فوج سے مکمل یکجہتی کا اعلان

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششوں سے مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہماری مساجد اور مدارس کو نشانہ بنا رہا ہے اور ایسے میں عالمی برادری کو مؤثر پیغام دینا ضروری ہے۔مولانا فضل الرحمان نے 10 مئی جمعہ کے دن کو یومِ دفاع وطن کے طور پر منانے کا اعلان کیا جبکہ 11 مئی کو پشاور اور 15 مئی کو کوئٹہ میں ملین مارچ کے انعقاد کا فیصلہ بھی کیا، جس میں پاکستان کے مؤقف کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے گا۔انہوں نے قومی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کو افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ فوج سے کچھ گلے شکوے ہیں، لیکن وطن کا معاملہ ہو تو وہ فوج سے دو قدم آگے ہوں گے۔

مولانا نے انصار السلام کے کارکنوں کو شہری دفاع کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی اور سوشل میڈیا پر جنگ سے متعلق جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے کی روک تھام کے لیے مؤثر حکومتی اقدامات پر زور دیا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت اسرائیلی ہتھیاروں کا استعمال کر رہا ہے اور پاکستان کو دونوں دشمنوں کے خلاف ایک مضبوط اور یکساں بیانیہ اپنانا ہوگا۔ مولانا کا کہنا تھا کہ ہمارے سفارتی مشنز کو متحرک ہونا چاہیے تھا تاکہ دوست ممالک کو موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے، لیکن بدقسمتی سے وہ متوقع سرگرمیاں نظر نہیں آئیں۔