امریکا: پاکستان اور بھارت اپنی جنگ خود سنبھالیں، ہم شامل نہیں ہوں گے

امریکا: پاکستان اور بھارت اپنی جنگ خود سنبھالیں، ہم شامل نہیں ہوں گے

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اس تنازع میں فوجی مداخلت نہیں کرے گا۔

 انہوں نے اس معاملے کو "بنیادی طور پر امریکہ کا مسئلہ نہیں" قرار دیا اور زور دیا کہ امریکہ دونوں ممالک پر سفارتی ذرائع سے کشیدگی کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالے گا، لیکن براہ راست مداخلت سے گریز کرے گا ۔وینس نے مزید کہا کہ امریکہ کی خواہش ہے کہ یہ تنازع جلد از جلد ختم ہو، لیکن انہوں نے اعتراف کیا کہ امریکہ ان دونوں جوہری طاقتوں کو قابو میں نہیں رکھ سکتا۔ انہوں نے کہا، "ہم ان دونوں ممالک کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر سکتے، لہٰذا ہم سفارتی ذرائع سے اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کریں گے" ۔یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب بھارت نے 7 مئی کو "آپریشن سندور" کے تحت پاکستان میں مبینہ دہشت گردی کے ٹھکانوں پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں 31 افراد ہلاک ہوئے۔ جوابی کارروائی میں پاکستان نے بھارتی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جنہیں بھارتی فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا ۔

وینس نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کی خواہش ہے کہ یہ تنازع ایک وسیع علاقائی جنگ یا خدانخواستہ ایٹمی تصادم میں تبدیل نہ ہو۔ انہوں نے کہا، "ہماری امید اور توقع ہے کہ یہ تنازع ایک بڑی علاقائی جنگ یا، خدانخواستہ، ایٹمی تصادم میں تبدیل نہیں ہوگا۔ فی الحال، ہمیں نہیں لگتا کہ ایسا ہوگا" ۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دیگر بین الاقوامی سفارت کار بھی اس تنازع کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب 22 اپریل کو بھارتی زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک دہشت گرد حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، جسے پاکستان نے مسترد کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔امریکہ کی اس پالیسی پر مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی "امریکہ فرسٹ" خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے، جس میں امریکہ کی غیر ملکی تنازعات میں مداخلت کو محدود رکھا گیا ہے ۔