کسی سرکاری مصروفیت کے باعث فوری ملاقات ممکن نہ ہو تو سائلین کو بروقت آگاہ کیا جائے
لاہور(کرائم رپورٹر)سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ کی زیر صدارت اہم اجلاس میں ماڈل ٹاؤن اور کینٹ ڈویڑنز کی مجموعی کارکردگی، امن و امان کی صورتحال اور جرائم کے تدارک کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں چینی شہریوں کے تحفظ کے لیے سکیورٹی انتظامات مزید مؤثر اور سخت بنانے کی ہدایت کی گئی۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ حالیہ دنوں میں 667 افغان باشندوں کو وطن واپس بھجوایا جا چکا ہے، جبکہ سی سی پی او نے ویزہ مدت ختم ہونے والے افغان باشندوں کی واپسی کا عمل مزید تیز کرنے کی ہدایت جاری کی۔بلال صدیق کمیانہ نے اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سو فیصد اہداف ہر صورت حاصل کیے جائیں۔ انہوں نے منشیات خصوصاً آئس اور دیگر جدید و مہلک ڈرگز کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کرنے اور سپلائی نیٹ ورک کے خلاف سخت ترین کارروائی کا حکم بھی دیا۔اجلاس میں شہریوں کو بہترین پولیس سروسز کی فراہمی پر بھی زور دیا گیا۔ سی سی پی او لاہور نے واضح کیا کہ سائلین کو دفاتر کے چکر لگوانے یا بلاوجہ انتظار کروانے کا کلچر ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اگر کسی افسر کی سرکاری مصروفیت کے باعث فوری ملاقات ممکن نہ ہو تو سائلین کو بروقت آگاہ کیا جائے تاکہ انہیں غیر ضروری پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے