افغانستان سے سرگرم دہشت گرد تنظیمیں پوری دنیا کے لئے خطرہ: پاکستانی مندوب

 القاعدہ، الخوارج، ٹی ٹی پی اور بلوچ شدت پسند افغانستان سے بدستور سرگرم ،یقینی بنانا ہوگا افغانستان ایک بار پھر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہ بنے
 افغانستان میں چھوڑے گئے ہتھیار پاکستان پر حملوں کیلئے استعمال ہو رہے ہیں، عاصم افتخارکا جنرل اسمبلی میں افغانستان کی صورتحال پر مباحثے سے خطاب
نیویارک(آئی این پی)اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ افغانستان سے سرگرم دہشت گرد تنظیمیں صرف ہمارے لئے نہیں پوری دنیا کیلئے خطرہ ہیں، القاعدہ، الخوارج، ٹی ٹی پی اور بلوچ شدت پسند افغانستان سے بدستور سرگرم ہیں۔ان خیالات کااظہارانہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں افغانستان کی صورتحال پر مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔پاکستان کے مستقل مندوب کا کہنا تھا کہ ہمیں افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی دراندازی کا سامنا ہے، کالعدم ٹی ٹی پی پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں چھوڑے گئے ہتھیار پاکستان پر حملوں کیلئے استعمال ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ہتھیار افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کی جانب سے پاکستان پر حملوں کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں، جن میں گذشتہ دو ہفتوں کے حملے بھی شامل ہیں۔ افغانستان کسی بھی ملک کیخلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونا چاہیے، افغان سر زمین پاکستان کیخلاف استعمال ہو رہی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کو آگاہ کیا ہے کہ اس بات کے مستند شواہد موجود ہیں کہ دہشت گرد گروہوں  کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان ، بلوچستان لبریشن آرمی ، اور مجید بریگیڈ کے درمیان بڑھتا ہوا گٹھ جوڑ قائم ہو چکا ہے، جو ملک کے سٹریٹیجک انفرااسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔ یہ گروہ افغانستان کے غیر حکومتی علاقوں سے کام کر رہے ہیں۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ ٹی ٹی پی کے جنگجوئوں کی تعداد تقریباً 6 ہزار ہے، اقوام متحدہ کی جانب سے نامزد سب سے بڑا دہشت گرد گروہ ہے، جو افغان سرزمین سے کام کر رہا ہے اور یہ نہ صرف پاکستان بل کہ علاقائی اور عالمی استحکام کے لیے بھی خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ افغانستان دوبارہ ایسے دہشت گردوں کی آماجگاہ نہ بنے جو اپنے ہمسایوں اور وسیع تر عالمی برادری کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور علاقائی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ ان عناصر کے خلاف کارروائی کریں جو اس خطے میں دوبارہ تنازع کو ہوا دے سکتے ہیں۔