لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے 9 مئی کو ہونے والے جلاؤ گھیراؤ کے معاملے میں سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد اور دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔
اے ٹی سی کے جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میں جاکر مقدمے کی سماعت کی، جہاں ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا۔ یہ کیس تھانہ شادمان لاہور میں درج کیا گیا تھا، جس میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، صنم جاوید اور دیگر ملزمان پر جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ، اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ملزمان کی جانب سے عدالت میں یہ مؤقف اپنایا گیا کہ وہ بے گناہ ہیں اور ان پر لگائے گئے الزامات جھوٹے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔مقدمے کی سماعت کے دوران، جج منظر علی گل نے ملزمان سے سوالات کیے اور ان کے بیانات کو سننے کے بعد فرد جرم عائد کی۔ عدالت نے اس کیس کی مزید سماعت 12 جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔
ملزمان میں دیگر سیاسی شخصیات بھی شامل ہیں جو اس وقت مختلف الزامات کی وجہ سے زیر تفتیش ہیں، اور ان کے خلاف مقدمات کی سماعت کا سلسلہ جاری ہے۔یہ کیس 9 مئی کے دن کی جھڑپوں اور تشدد کے بعد درج کیا گیا تھا، جب پی ٹی آئی کے کارکنوں نے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں احتجاج کیا تھا اور سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچایا تھا۔