یہ نہیں کہتے کہ پاکستان کرپشن فری ہے:احسن اقبال

یہ نہیں کہتے کہ پاکستان کرپشن فری ہے:احسن اقبال

اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اعلان کیا ہے کہ رمضان ریلیف پیکیج میں فی خاندان رقم 12 ہزار روپے سے بڑھا کر 13 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔

اسلام آباد میں ماہانہ ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ بریفنگ کے دوران احسن اقبال نے کہا کہ افراطِ زر قابو میں ہے اور جولائی تا جنوری مہنگائی 5.2 فیصد رہی جبکہ بڑی صنعتوں کی گروتھ 6 فیصد رہی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اصلاحات کے نتیجے میں ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوا اور آج ریفارمز رپورٹ بھی لانچ کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب حکومت یہ کہتی ہے کہ 2035ء تک پاکستان کی معیشت 1000 ارب ڈالر کی ہوگی تو تنقید ہوتی ہے، لیکن آج آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک پاکستان کی تعریف کر رہے ہیں۔ عالمی ریٹنگ ایجنسیاں بھی ملک کی معاشی بہتری کی نشاندہی کر رہی ہیں۔احسن اقبال نے بتایا کہ گزشتہ دو سال سے ملکی معیشت روز بروز بہتری کی طرف جا رہی ہے اور عالمی سرمایہ کاروں کو حقائق تسلیم کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال ترسیلات 19 ارب 70 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 2 ارب ڈالر زیادہ ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جنوری میں برآمدات میں 4 فیصد اضافہ ہوا اور رواں مالی سال کے 7 ماہ کے دوران ترقیاتی بجٹ کے لیے 5555 ارب روپے جاری کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اب تک پی ایس ڈی پی کی مد میں 272 ارب 80 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ بلوچستان اسمبلی کی نئی عمارت کی تعمیر کی منظوری بھی دی گئی ہے۔احسن اقبال نے بتایا کہ وزیر اعظم کو ٹورازم ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے قیام کی تجویز بھیجی گئی ہے، جو صوبوں کی مشاورت سے قائم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پی کا حجم کم ہونے کی وجہ سے کئی منصوبوں کے لیے فنڈز کم ہیں اور ترقیاتی بجٹ کے لیے مزید 500 ارب روپے درکار ہیں۔آخر میں وفاقی وزیر نے ایک سیاسی لیڈر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے مسلسل “چور ڈاکو” کی تکرار کر رہا ہے۔