ایجبسٹن ٹیسٹ: پاکستان کی 11 رکنی ٹیم کے حوالے ہیڈکوچ تاحال کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکے

لاہور(سپورٹس ڈیسک)ایجبسٹن ٹیسٹ میں پاکستان کی گیارہ رکنی ٹیم کے حوالے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن تاحال کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔انگلینڈ اور پاکستان کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ بدھ 9 ستمبر سے شروع ہوگا۔تاہم سرفراز احمد کی جگہ لینے والے قومی ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن 2 دن کی پریکٹس کے بعد تا حال ابھی اس نتیجے پر نہیں پہنچے کہ کس کامبی نیشن کیساتھ گیارہ رکنی ٹیم میدان میں اتارنا چاہیے۔لارڈز ٹیسٹ میں چوتھے دن 194 رنز کی شکست کے بعد بورڈ نے ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے اسکواڈ سے سات کھلاڑیوں کو ڈراپ کردیا تھا جس کے نتیجے میں لارڈز ٹیسٹ کھیلنے والی گیارہ رکنی ٹیم سے وکٹ کیپر محمد رضوان، اوپنر امام الحق، فاسٹ بولر خرم شہزاد اور اسپنر علی عثمان کی جگہ تبدیلی تو یقینی ہے۔تاحال اطلاعات کے مطابق برمنگھم پہنچنے کے بعد دو دن کی پریکٹس میں کوچ مائیک ہیسن تا حال ابھی یہ فیصلہ نہیں کر سکے ہیں کہ کن گیارہ کھلاڑیوں کو میدان میں اتارنا چاہیے۔وکٹ کیپر غازی غوری کے حوالے سے تاہم تقریباً طے ہے کہ وہ ایجبسٹن میں ڈیبیو کرینگے، 24سال کے بائیں ہاتھ کے اوپنر صائم ایوب جنھوں نے آخری ٹیسٹ جنوری 2025 میں جنوبی افریقا کے خلاف کیپ ٹاؤن میں کھیلا تھا، اذان اویس کیساتھ اننگز کا آغاز کرنے کے حوالے سے مضبوط امیدوار ہیں تاہم دائیں ہاتھ کے اسپنر ساجد خان جو اسکواڈ سے ڈراپ ہونیوالے علی عثمان کی موجودگی میں تجربے کار بولر ہیں، عین ممکن ہے کہ مائیک ہیسن ان پر 3 ون ڈے اور 4 ٹی 20 کھیلنے والے بائیں ہاتھ کے اسپن بولنگ آل راؤنڈر 21سال کے عرفات منہاس کو ترجیح دیں۔اسی طرح اگست 2026 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف پورٹ آف اسپین میں ٹیسٹ ڈیبیو کرنیوالے 20سال کے دائیں ہاتھ کے تیز بولر عبید شاہ بھی کیرئیر کا دوسرا ٹیسٹ کھیلنے کے حوالے سے مضبوط امیدوار ہیں۔