عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں اضافہ

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں اضافہ

امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کے باعث منگل کو عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

 سرمایہ کاروں کی نظریں رواں ہفتے جاری ہونے والے امریکی افراطِ زر کے اعدادوشمار پر مرکوز ہیں، جو امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرحِ سود پالیسی کے حوالے سے اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.6 فیصد اضافے کے بعد 4,429.89 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ دسمبر کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز معمولی تبدیلی کے ساتھ 4,475.10 ڈالر فی اونس پر رہے۔دوسری جانب امریکی ڈالر انڈیکس میں 0.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ڈالر کی قدر میں کمی کے باعث دیگر کرنسیوں میں خریداری کرنے والے سرمایہ کاروں کے لیے ڈالر میں قیمت والے سونے سمیت دیگر قیمتی دھاتیں نسبتاً سستی ہوجاتی ہیں، جس سے ان کی طلب میں اضافہ ہوسکتا ہے۔مارکیٹ کی نظریں اب امریکی پروڈیوسر پرائس انڈیکس (PPI) پر ہیں، جو جمعرات کو جاری کیا جائے گا، جبکہ کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کے اعدادوشمار جمعہ کو سامنے آئیں گے۔ یہ اعدادوشمار امریکی شرحِ سود کے مستقبل کے حوالے سے سرمایہ کاروں کی توقعات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو سیشنز کے دوران سونے کی قیمت میں کمی ہوئی تھی۔ اس کی ایک بڑی وجہ اگست میں امریکی روزگار کے اعدادوشمار میں نمایاں بہتری اور بے روزگاری کی شرح کا 4.1 فیصد پر برقرار رہنا قرار دیا گیا۔

ادھر عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی بھی قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ پر اثر انداز ہورہی ہے۔ ایران کی جانب سے امریکا کو ’اقتصادی جنگ‘ کی دھمکی اور امریکی جنگی بحری جہازوں کے حوالے سے جدید میزائل داغنے کے دعوے نے خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات بڑھا دیے ہیں، جس کے باعث سرمایہ کار محفوظ اثاثوں کی جانب بھی متوجہ ہوسکتے ہیں۔دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ چاندی کی قیمت ایک فیصد اضافے کے بعد 66.78 ڈالر فی اونس ہوگئی، پلاٹینم 0.4 فیصد اضافے سے 1,834 ڈالر جبکہ پیلیڈیم ایک فیصد اضافے کے بعد 1,402.87 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں امریکی افراطِ زر کے اعدادوشمار، ڈالر کی سمت اور فیڈرل ریزرو کی شرحِ سود سے متعلق توقعات سونے کی قیمتوں کے لیے اہم عوامل ثابت ہوں گے۔