مغویہ کی ماں، ساس، شوہر سمیت 5افراد کے پولی گرافک ٹیسٹ بے نتیجہ ثابت
ایک ہزارفونز کی جیوفینسنگ، 100شارٹ لسٹ،دم کرنیوالا پیر بھی شامل تفتیش
لاہور (کرائم رپورٹر) کاہنہ میں خاتون فوزیہ بی بی کے 6 سال قبل مبینہ طور پر جنات کے ہاتھوں اغوا کے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے حکم پرخاتون کی بازیابی کیلئے پولیس افسران نے اعلٰی سطح کی سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی۔ذرائع کے مطابق ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور ذیشان حیدر کو ٹیم کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ ٹیم میں انویسٹی گیشن برانچ پنجاب کے ایس ایس پی عاصم کمبوہ، ایس پی انویسٹی گیشن ماڈل ٹائون محمد ایاز، ڈی ایس پی سپیشل برانچ، ڈی ایس پی سیف سٹی، ڈی ایس پیز سی سی ڈی حسنین حیدر اور دانش رانجھا، ڈی ایس پی انویسٹی گیشن کاہنہ سرکل عثمان حیدر اور انچارج انویسٹی گیشن انسپکٹر زاہد سلیم شامل ہیں۔ سپیشل پولیس ٹیم نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے مغوی خاتون فوزیہ کی ماں، ساس اور شوہر سمیت 5 افراد کے پولی گرافک ٹیسٹ کروالئے۔پولیس کے مطابق پانچوں افراد کے پولی گرافک ٹیسٹ کے نتائج بینتیجہ رہے، مغویہ کی تلاش کیلئے ایک ہزار موبائل فون نمبروں کی جیو فینسنگ کی گئی جن میں سے 100 سے زائد شارٹ لسٹ کییگئے۔پولیس کے مطابق نادرا، سیف سٹیز، آئی جی جیل خانہ جات اور اداروں سے تصدیق کا عمل جاری ہے۔پولیس کا کہنا ہیکہ فوزیہ کو اس کی والدہ حمیداں قصور میں دم کرانے لیکر جاتی تھی، قصور میں دم کرنے والے پیر عمرپاکستانی کو بھی شامل تفتیش کرلیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق والدہ کا ڈی این اے فارنزک سائنس ایجنسی میں کسی سے میچ نہیں ہوسکا۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے آئی جی پنجاب کو مغوی خاتون کی بازیابی کیلئے 18 ستمبر تک کی مہلت دی تھی۔