ڈاکٹر جاوید ملک
اپنی زمین سے کروڑوں میل دور ، اتنی دور کہ ہماری عظمتیں ، ہماری سرحدیں ، ہماری لڑائیاں اور ہمارے غرور ، سب نگاہوں سے اوجھل ہو جائیں۔
پھر پلٹ کر اپنی زمین کو دیکھیے۔وہاں آپ کو نہ کوئی سرحد دکھائی دے گی ،نہ کوئی قوم ،نہ کوئی محل ،نہ کوئی تخت ،نہ کوئی فاتح اور مفتوح۔
صرف ایک ننھا سا ، مدھم نیلا نقطہ۔اور یہی نقطہ۔ہم ہیں۔یہی ہمارا گھر ہے۔اسی نقطے پر کسی ماں نے پہلی بار اپنے بچے کو سینے سے لگایا۔
اسی پر کسی عاشق نے محبت کا اقرار کیا۔کسی باپ نے اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کے خواب دیکھے۔کسی شاعر نے لفظوں میں دل کی دنیا آباد کی۔کسی درویش نے خدا کو پکارا۔اور کسی سائنس دان نے آسمان کے راز سمجھنے کی کوشش کی۔اسی چھوٹے سے نقطے پر انسان پیدا ہوا ، چلا ، گرا ، سنبھلا ، محبت کی ، رویا ، ہنسا اور پھر خاموشی سے مٹی کا حصہ بن گیا۔یہیں وہ لوگ بھی گزرے جنہیں ہم تاریخ کے عظیم فاتح کہتے ہیں۔
انہوں نے سلطنتیں قائم کیں ، شہر فتح کئے ، تخت و تاج حاصل کیے اور یہ سمجھا کہ شاید دنیا ہمیشہ ان کے قدموں تلے رہے گی مگر کائنات کی اس تصویر میںان کی سلطنتیں کہاں ہیں ؟کہاں ہیں وہ تخت ؟کہاں ہیں وہ سرحدیں جن کے لیے انسان نے خون بہایا ؟سب کچھ اسی ایک نقطے میں سمٹ گیا۔اور پھر ان کروڑوں انسانوں کو یاد کیجئے۔جن کے نام کسی تاریخ میں درج نہیں ہوئے۔وہ کسان جو صبح سورج کے ساتھ کھیت میں گیا۔وہ مزدور جس نے اپنے بچوں کے لیے عمر بھر محنت کی۔وہ ماں جس نے اپنی اولاد کے لیے دعائیں کی۔وہ شخص جس کا دکھ کسی کتاب میں نہیں لکھا گیا۔وہ سب بھی اسی نقطے پر زندہ رہے۔یہ ننھا سا نقطہ صرف ہماری زمین نہیں۔یہ ہماری پوری انسانی داستان ہے۔
کائنات کی وسعت ہمیں ایک عجیب حقیقت سے آشنا کرتی ہے۔ہم بہت بڑے نہیں ہیں۔ہم بہت چھوٹے ہیں۔ہماری زندگی مختصر ہے۔
ہماری زمین بے حد معمولی سی ہے۔اور ہماری باہمی دشمنیاں اس سے بھی زیادہ معمولی۔پھر ہم ایک دوسرے سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں ؟ہم ایک دوسرے کو شکست دینے میں اپنی زندگی کیوں گزار دیتے ہیں ؟ہم اپنے ہی گھر کو کیوں زخمی کرتے ہیں ؟یہ زمین کسی ایک قوم کی نہیں۔کسی ایک نسل کی نہیں۔کسی ایک طاقتور انسان کی نہیں۔یہ ہم سب کا گھر ہے۔اور شاید کائنات کی خاموشی ہمیں یہی کہہ رہی ہے کہ
اپنے اس چھوٹے سے گھر کی حفاظت کرو۔ایک دوسرے کی قدر کرو۔اپنی نفرتوں کو چھوٹا کرو۔اپنی محبتوں کو بڑا کرو کیونکہ ابھی تک ہمیں کائنات کی بے شمار وسعتوں میں اس ننھے سے نیلے نقطے کے سواکوئی دوسرا گھر معلوم نہیں۔ہم سب اسی ایک کشتی میں سوار ہیں۔اگر یہ کشتی ڈوبی تو ہم سب ڈوب جائیں گے۔اس لیے جب کبھی اپنے عہدے پر غرور ہو ، اپنی دولت پر ناز ہو ، اپنی طاقت پر تکبر ہو یا کسی دوسرے انسان کو اپنے سے کمتر سمجھنے کا خیال آئے تو ایک لمحے کے لیے آسمان کی طرف دیکھیے اور پھر اپنی زمین کو دیکھیے۔
وہاں آپ کو ایک ننھا سا نیلا نقطہ دکھائی دے گا۔
وہی نقطہ آپ ہیں۔وہی نقطہ میں ہوں۔
وہی نقطہ ہماری نسلوں کا ماضی ہے۔وہی ہمارا حال ہے۔اور شاید وہی ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی ہے۔اس لیے اسے صرف زمین نہ سمجھیں۔اسے اپنا گھر سمجھیں۔اور گھروں کو فتح نہیں کیا جاتا۔گھروں کو سنبھالا جاتا ہے۔یہی شاید اس ننھے سے نیلے نقطے کا سب سے بڑا سبق ہے اور پھر ہم اپنی زندگی کی طرف پلٹتے ہیں۔مشہور امریکی ماہر فلکیات ، مصنف ، سیاری سائنس دان کارل سیگن کا یہ تصور صرف کائنات کو دیکھنے کا ایک انداز نہیں ، اپنی زندگی کو دیکھنے کا ایک آئینہ بھی ہے۔ہم روزمرہ زندگی میں معمولی باتوں کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔عہدہ ، دولت ، شہرت ، مقابلہ اور برتری کی دوڑ میں کبھی رشتے پیچھے رہ جاتے ہیں اور کبھی انسان خود اپنے آپ سے دور ہو جاتا ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمیں اہم سمجھیں ، ہماری بات مانیں ، ہماری کامیابی کو تسلیم کریں مگر اسی دوڑ میں یہ بھول جاتے ہیں کہ زندگی بہت مختصر ہے۔جس شخص سے آج ہم ناراض ہیں ، ضروری نہیں کہ کل وہ ہمارے ساتھ ہو۔جس رشتے کو آج انا کی خاطر توڑ رہے ہیں ، ممکن ہے کل اسی کی کمی محسوس ہو۔اور جس دنیا پر ہم اپنی برتری ثابت کرنا چاہتے ہیں وہاں آخرکار ہم سب کو ایک ہی مٹی میں لوٹ جانا ہے تو پھر کیوں نہ اپنی زندگی کو کچھ آسان بنا لیا جائے ؟کسی کو معاف کر دیا جائے۔کسی کے لیے آسانی پیدا کر دی جائے۔والدین کو وقت دے دیا جائے۔
بچوں کے ساتھ چند لمحے دل سے گزار لیے جائیں۔کسی ضرورت مند کا ہاتھ تھام لیا جائے اور جہاں ممکن ہو ، نفرت کے بجائے محبت کا انتخاب کیا جائے کیونکہ اس ننھے سے نیلے نقطے پر ہماری اصل کامیابی یہ نہیں کہ ہم نے کتنا جمع کیا ، کتنے لوگوں کو پیچھے چھوڑا یا کتنی طاقت حاصل کی۔اصل کامیابی شاید یہ ہے کہ ہم نے اپنے مختصر سفر میں کتنے دلوں کو سکون دیا اور دنیا کو اپنے بعد کتنا بہتر چھوڑا۔کائنات کے مقابلے میں ہم بہت چھوٹے ہیں لیکن ہمارے اختیار میں ایک بہت بڑی چیز ہے۔ہم اپنے حصے کی دنیا کو بہتر بنا سکتے ہیں اور شاید یہی اس مدھم نیلے نقطے کا سب سے خوبصورت پیغام ہے۔یہ دنیا ہماری ملکیت نہیں۔ہماری امانت ہے۔اسے جیتنا نہیں۔اسے سنبھالنا ہے۔اسے فتح نہیں کرنا۔اسے بہتر بنا کر اگلی نسل کے حوالے کرنا ہے۔آخرکاروہ ننھا سا نیلا نقطہ ہی ہمارا گھر ہے۔