امن قافلہ -- ظلم کی گرفت میں

 امجد علی

دنیا کے افق پر کبھی کبھی ایسے واقعات ابھرتے ہیں جو صرف خبریں نہیں رہتے، بلکہ انسانیت کے ضمیر پر ان مٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ امن کی زمین چند شر پسند مقتدر عناصر کی بدولت اکثر اوقات جنگ جدل کا میدان بنی نظر آتی ہے۔ اس میدان کا ایندھن ہمیشہ انسان بنتا ہے ‘‘گلوبل صمود فلوٹیلا’’ کا واقعہ بھی انہی لمحات میں سے ایک ہے، جہاں ایک طرف امن، ہمدردی اور انسان دوستی کا قافلہ رواں تھا، اور دوسری طرف طاقت، جبر اور ریاستی تکبر کی دیوار ایستادہ تھی۔

یہ قافلہ کسی سیاسی یا عسکری مہم کا حصہ نہیں تھا؛ بلکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکنان، ڈاکٹرز، صحافی، رضاکار اور فلاحی نمائندگان کا ایک خالص انسانی و امدادی قافلہ تھا، جس کا مقصد محصور غزہ کے مظلوم شہریوں تک خوراک، پانی، اور طبی امداد پہنچانا تھا  وہ لوگ جو برسوں سے اسرائیلی محاصرے میں بھوک، پیاس اور زخموں کے ساتھ زندگی کی آخری سانسیں لے رہے ہیں۔

‘‘گلوبل صمود فلوٹیلا’’ کی چالیس کشتیوں پر سوار یہ نہتے انسان جب بحیر? روم کے نیلگوں پانیوں پر امن کا پیغام لیے غزہ کی سمت بڑھ رہے تھے، تو کسی کو اندازہ نہ تھا کہ یہ لہریں انہیں طاقت کے غرور اور ظلم کے پنجے میں لا گرائیں گی۔ اسرائیلی بحریہ نے ان کشتیوں کو بین الاقوامی پانیوں میں گھیرے میں لے لیا  یہ وہ علاقہ تھا جو کسی ریاست کی خودمختاری کے دائرے میں نہیں آتا۔
پھر بھی، اسرائیل نے نہ صرف انہیں روکنے کا حکم دیا بلکہ زبردستی چڑھائی کرتے ہوئے طاقت کے وحشیانہ استعمال سے مسافروں کو گرفتار کر لیا۔

ان کشتیوں میں تقریباً پانچ سو کے قریب افراد سوار تھے، جن میں عورتیں، بزرگ، صحافی، ڈاکٹر، اور مختلف ممالک کے سفارتی نمائندے شامل تھے۔ انہیں ‘‘انسانیت کے جرم’’ میں گرفتار کر کے نیگیو کے صحرائی علاقے میں واقع ‘‘شہرونیم جیل’’ منتقل کیا گیا۔ کچھ کو بعد ازاں ‘‘کیٹزوئن’’ ہائی سیکیورٹی جیل میں بھی بھیجا گیا۔ یہ اقدام نہ صرف اخلاقی طور پر، بلکہ بین الاقوامی قوانین کے لحاظ سے بھی کھلی خلاف ورزی ہے، کیونکہ عالمی قانون انکلاس کے مطابق کسی غیر مسلح، امدادی بحری مشن کو روکنا، اس پر حملہ کرنا یا اس کے مسافروں کو گرفتار کرنا جارحیت کے زمرے میں آتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق گرفتار شدگان کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ ان کے ہاتھ پیچھے باندھ دیے گئے، گھنٹوں سخت فرشوں پر بٹھایا گیا، خوراک اور پانی محدود کر دیا گیا، اور قید خانے کی حالت ناقابلِ بیان بتائی جا رہی ہے۔  یہ سب کچھ اس جرم میں کی پاداش میں کہ وہ انسانوں کو زندہ رکھنے کے لیے نکلے تھے نہ کہ کسی ریاست کو گرانے کے لیے۔

دوسری جانب اسرائیل کی حکمتِ عملی واضح طور پر ریاستی دہشت گردی کے دائرے میں آتی ہے۔ اس نے بین الاقوامی انسانی ہمدردی کے اصولوں کو پامال کرتے ہوئے نہ صرف بحری امدادی مشن پر قبضہ کیا بلکہ اسے ایک سیاسی ‘‘خطرہ’’ قرار دے کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی۔ یہ وہی رویہ ہے جو طاقتور اقوام کمزوروں پر ہمیشہ مسلط کرتی آئی ہیں  قانون کی تعبیر کو اپنی طاقت کے تابع کر کے۔

پاکستان، بنگلہ دیش، ترکی، اور کئی یورپی ممالک نے اسرائیل کی اس کاروائی کو بین الاقوامی قانون اور انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ برسلز، برلن، ایتھنز، اور میڈرڈ سمیت کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر تمام گرفتار شدگان کو رہا کرے، اور اقوامِ متحدہ اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کرے۔ گرین پیس انٹرنیشنل سمیت متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے چارٹرز  خصوصاً  چوتھے جنیوا کنوینشن  کی پاسداری کرے۔

یہاں اسرائیلی حکام کے اس دعوے؛ کہ یہ محض ‘‘امیگریشن کا معاملہ’’ ہے, کو قبول کرنا نامناسب ہی نہیں، بلکہ حقیقت سے روگردانی ہے۔ غیر مسلح، غیر سیاسی اور خالص انسانی امدادی قافلے کو نشانہ بنانا کسی بھی طور پر قابلِ دفاع نہیں۔ یہ محض ایک گرفتاری نہیں، بلکہ انسانی ضمیر کا اغوا ہے۔ پوری بین الاقوامی برادری کے سامنے روا رکھا گیا یہ ظلم اور اس کے لیے بنائے گئے بہانے، امنِ عالم کے خلاف ایک کھلی بغاوت ہیں؛ ظلم کو جواز عطا کر کے اسے درست ثابت کرنے کی کوشش کرنا دراصل طاقت کے اندھے اور بے رحمانہ استعمال کی تائید ہے ایسی ہی ذہنیت کو تاریخ نے ہٹلر کی پالیسی کا ہی تسلسل قرار دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا کی داستان بیروت اور غزہ میں جاری روزمرہ اظہارِ ظلم سے پردے اٹھا رہی ہے۔ وہ حقائق جو اسرائیل اپنے موقف کی آڑ میں چھپانا چاہتا ہے، اس قافلے نے بے نقاب کر دیے ہیں۔ وہاں ہونے والی بربریت اور نسل کشی کے الزامات محض بیانات نہیں، وہ زمینی حقائق ہیں جنھیں عالمی ضمیر کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
دریں اثناء￿  صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے امن معاہدے کے نام پر پیش کردہ تجاویز بھی قانونی طور پر فلسطینوں کو کمزور اور اسرائیل کو مضبوط کرنے کی طرف پیش رفت  کا منصوبہ لگتی ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر بلند ہوتی آوازوں میں اب یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا دنیا کے قانون صرف طاقتوروں کے لیے ہیں؟ کیا مظلوموں کی امداد بھی اب جرم بن چکی ہے؟ اگر عالمی برادری نے اس پر خاموشی اختیار کی، تو آنے والے دنوں میں ہر امدادی جہاز، ہر ریلیف ٹیم، اور ہر انسان دوست آواز خطرے کی زد میں ہوگی۔

فی الحال اسرائیل نے یہ عندیہ دیا ہے کہ اگر گرفتار شدگان ‘‘ڈی پورٹ’’ کے عمل کو قبول کریں تو ان پر مقدمہ نہیں چلے گا۔ یہ وقتی گنجائش ہے، انصاف نہیں۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ اسرائیل اپنی غیر قانونی کارروائیوں پر معافی مانگے، یرغمالیوں کو مکمل تحفظ دے، اور غزہ کی محصور آبادی تک انسانی امداد کے راستے کھولے۔ ورنہ دعوے کچھ بھی ہوں اس کے ہر روز نئے مظالم کی داستانیں اسے بین الاقوامی دہشتگرد ڈیپ سٹیٹ کے طور پر تعارف کروا رہی ہیں۔ یہ وہی حالت ہے جن کی وجہ سے ہٹلر ان کی نسل کشی کے درپے تھا۔ اب اسرائیل کا کردار بذات خود چیخ چیخ کر یہ بتا رہا ہے کہ یہودیوں کی بابت ہٹلر  کا ویڑن بلکل سچ اور سو فیصد درست تھا 

یہاں اسرائیلی حکام کے اس دعوے  کہ یہ محض ‘‘امیگریشن کا معاملہ’’ ہے کو قبول کرنا نامناسب ہی نہیں، بلکہ حقیقت سے روگردانی بھی ہے۔ غیر مسلح، غیر سیاسی اور خالص انسانی امدادی قافلے کو نشانہ بنانا کسی بھی زاویہ نگاہ سے  قابلِ دفاع نہیں۔ یہ محض ایک گرفتاری نہیں، بلکہ انسانی ضمیر کا اغوا ہے۔ پوری بین الاقوامی برادری کے سامنے روا رکھا گیا یہ ظلم اور اس کے لیے بنائے گئے بہانے، امنِ عالم کے خلاف ایک کھلی بغاوت ہیں؛ ظلم کو جواز بنا کر اسے درست ثابت کرنے کی کوشش کرنا دراصل طاقت کے اندھے اور بے رحمانہ استعمال کی تائید ہے۔ ایسی ہی ذہنیت کو تاریخ نے ہٹلر گردی کا تسلسل قرار دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا کی داستان بیروت اور غزہ میں جاری روزمرہ اظہارِ ظلم کے پردے اٹھا رہی ہے وہ حقائق جو اسرائیل اپنے موقف کی آڑ میں چھپانا چاہتا ہے، اس قافلے نے بے نقاب کر دیے ہیں۔ وہاں ہونے والی بربریت اور نسل کشی کے الزامات محض بیانات نہیں وہ زمینی حقائق ہیں جنھیں عالمی ضمیر کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اسرائیل کے قول و فعل میں تضاد کی کیفیت کو  الہامی مقدس کتاب میں ہزاروں برس قبل بڑی فصاحت سے یوں فرمایا گیا۔۔۔

"اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ تو کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔
خبردار! یہی لوگ دراصل مفسد ہیں، مگر انہیں شعور نہیں۔"
سبھی واقف حال ہیں کہ اسرائیل ایک بین الاقوامی دہشت گرد سٹیٹ کے طور پر اپنی پہچان مضبوط بنا رہا ہے اور لفظیات میں وہ خود کو قانون اور انصاف کا داعی کا دعوے دار بھی کہلوانا چاہتا ہے

تاریخ کے اوراق پر سنہری حروف میں نقش ہے کہ ظلم کبھی قائم نہیں رہتا۔ طاقت کا غرور ریت کی دیوار کی مانند ہے، جو وقت کی موجوں کے سامنے زیادہ دیر ٹھہر نہیں سکتا۔ امن کے یہ قافلے چاہے کتنے روکے جائیں، ان کا پیغام بحرصورت منزل تک پہنچتا ہے، کیونکہ انسانیت کا سفر کبھی رکتا نہیں اور ظلم کی زنجیریں بالاخر ٹوٹ ہی جاتی ہیں۔ دنیا یاد رکھے، جب مسلسل تپتی دھوپ زرخیز مٹی کو دلدل میں بدل دیتی ہے تو وہی رب العزت بارانِ رحمت برسا کر اجڑے بکھرے ذروں کو یک جہتی کی ایک نئی زندگی عطا فرما دیتا ہے۔ یہی قانونِ فطرت ہے کہ ظلم کی طاقتیں مٹ جاتی ہیں، جبر کی بنیادیں مسمار ہو جاتی ہیں، اور صرف اسی ذات حق کو بقاء￿  ہے جو قائم بالذات ہے۔ دوام اْسی کے لیے ہے، باقی سب قوتیں وقتی اور فنا پذیر ہیں۔ ہمیں چاہئیے کہ صبر اور استقامت کے ساتھ حق کے لیے آواز اٹھائیں۔