رپورٹ میںشوگر ایڈوائزری بورڈ کو بھی قیمتوں میں اضافے سے بری الذمہ قرار دیدیا گیا :وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی کی دستاویزات
اسلام آباد(آن لائن) چینی بحران،حکومتی انکوائری رپورٹ میں شوگر ملز کو کلین چٹ دیدی گئی،ملک میں چینی کے بحران کی ذمہ داری موسمی حالات سے گنے کی پیداوار میں کمی پر ڈال دی گئی،شوگر ایڈوائزری بورڈ کو بھی قیمتوں میں اضافے سے بری الذمہ قرار دیدیا گیا ۔وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی کی دستاویزات کے مطابق ملک میں چینی کے حالیہ بحران اور قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر حکومت نے شوگر ملز سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو کلین چٹ دے کر بری الزمہ قرار دے دیا اورچینی کی قیمتوں میں اضافے کی ذمہ داری موسمی حالات اور فصلوں کی بیماریوں پر ڈال دی ہے۔ دستاویزات کے مطابق چینی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ حکومتی پالیسیوں اور فیصلوںکے باعث نہیں ہواہے بلکہ چینی کی پیداوار میں کمی فطری عوامل کی وجہ سے تھی جو انسانی قابو سے باہر ہیں، وزارتی دستاویز ات کے مطابق کسی فرد یا ادارے کو کم پیداوار یا قیمتوں کے بحران کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا ہے دستاویزات کے مطابق حکومت اب چینی کے شعبے کو ڈی ریگولیشن کی طرف لے کر جا رہی ہے اوراس فیصلے کا مقصد طلب، رسد اور قیمتوں میں استحکام پیدا کرنا ہے دستاویزات کے مطابق حکومت موجودہ درآمدی عمل شوگر ملز کو شامل کیے بغیر براہ راست کر رہی ہے اوراضافی چینی کی برآمد کی تفصیلات بھی پارلیمنٹ میں پیش کی گئی ہیں دستاویزات کے مطابق اضافی چینی کی برآمد کا فیصلہ شوگر ایڈوائزری بورڈ کی سفارشات پر کیا گیایہ فیصلہ 13 جون 2024 سے اکتوبر 2024 تک چار مراحل میں کیا گیا ہے دستاویزات کے مطابق چینی کے اضافی ذخائر کی وجہ سے برآمد کا فیصلہ ہوا تھا تاہم موسمی حالات، شدید گرمی اور بیماری کی وجہ سے فصلیں متاثر ہوئی دستاویزات کے مطابق بیماری اور موسمی حالات کی بنا پر گنے کی پیداوار تخمینے سے تقریبا 1 ملین میٹرک ٹن کم رہی جس کے باعث ملکی سطح پر چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا