فریش طلباء کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی:ڈاکٹر کامران
نمائندہ متاثرہ والدین ، نمائندہ طلبہ کا بھی مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب
لاہور(خصوصی رپورٹ)پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ پنجاب کے میڈیکل کالجز میں 3سال کیلئے انٹری ٹیسٹ کی قبولیت ناقابل فہم اور بلاجواز ہے ، فریش طلباء کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ جو طلباء 2024 ء میرٹ پر داخلہ سے محروم رہ گئے اْن کو کیونکر 2025 ء میں چور دروازہ سے داخلہ دیا جا سکتا ہے، محکمہ صحت پنجاب کی میڈیکل کالجز میں اعلان کردہ داخلہ پالیسی مستحق طلباء کے ساتھ نا انصافی ہے،حکومت نوٹس لے۔ان خیالات کا اظہار پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے رہنماؤں ڈاکٹر کامران ، ڈاکٹرملک علیم نواز، ڈاکٹر نادر خان، پروفیسر ڈاکٹر شاہد ملک، ڈاکٹر ریاض ذوالقرنین ، ڈاکٹر واجد علی، پروفیسر ڈاکٹر وسیم ، نمائندہ متاثرہ والدین طلحہ، نمائندہ متاثرہ طلباء نیپی ایم اے ہاؤس میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے گزشتہ روزپنجاب بھر کے میڈیکل کالجز میں 2025-26 ء داخلہ پالیسی کا اعلان کیا جس کی رو سے 2024-2023 ء کو بھی داخلہ کا اہل قرار دیا اور اس کی ذمہ داری پی ایم ڈی سی پر ڈال کر حال ہی میں ایف ایس سی کرنے والے نوجوان مستحق طلباء کے ساتھ سراسر زیادتی اور ناانصافی کی ، دنیا بھر میں اس طرح کے متحانات کے ذریعہ 3سال کیلئے Acceptance کی کوئی مثال نہیں ،پنجاب حکومت انصاف پر مبنی سندھ، NUST، آغا خان کی طرح 2025 کی سیٹوں کیلئے صرف 2025 ء کا ٹیسٹ پاس کرنیوالے امیدوار طلبہ کو اْن کا جائز حق دے۔