کراچی(خصوصی رپورٹ )کراچی میں شیما کرمانی سمیت انسانی حقوق کی خواتین ورکرز کی گرفتاری ومبینہ بدسلوکی کے واقعے پرکراچی پولیس کے تین اہلکاروں کو معطل کردیا گیا۔ شیماکرمانی سمیت انسانی حقوق کی خواتین کارکنوں کی گرفتاری اور مبینہ بدسلوکی کے واقعے پر وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے متعلقہ پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی ہدایت دے دی۔وزیر داخلہ سندھ کی ہدایت پر ڈی ایس پی صدر ناصر آفریدی، ایس ایچ او ویمن پولیس اسٹیشن حنا مغل اور ایس ایچ او آرٹلری میدان ندیم حیدر کو معطل کردیا گیا ہے۔وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اختیارات کے ناجائز استعمال پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے اور خواتین کے احترام و حقوق کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔دوسری جانب ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد نے بھی واقعے کی انکوائری کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔یاد رہے گذشتہ روز پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عورت مارچ کی خواتین سے مبینہ بدسلوکی کے واقعے پر پولیس کے رویے پر شدید برہمی کا اظہار کیا تھا۔محکمہ داخلہ نے بلاول بھٹو کی ہدایت پر زیر حراست لی گئی خواتین کو رہا کر دیا۔