بری امام میں آپریشن کے معاملے پر دو وزراء آمنے سامنے

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک)سینیٹ اجلاس میں وفاقی وزراء طلال چوہدری اور طارق فضل چوہدری بری امام آپریشن کے معاملے پر آمنے سامنے آگئے، جہاں دونوں وزراء نے مختلف م ئوقف اختیار کیا، وزیر داخلہ نے بری امام میں آپریشن کی حمایت جبکہ وزیر پارلیمانی امور نے تحفظات کا اظہار کیا۔وزیر مملکت  برائے داخلہ طلال چوہدری نے آپریشن کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ نور پور شاہاں گا ئوں کے لیے معاوضے کی رقم ادا کی جا چکی ہے جبکہ حکومت نے مجموعی طور پر 104 دیہات کی زمین حاصل کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ہزار ارب روپے مالیت کی زمین ہے، گھروں کو خالی کروایا گیا اور لوگ اپنا سامان لے کر چلے گئے، مزاحمت ان افراد کی جانب سے کی گئی جنہوں نے وہاں فارم ہا ئوسز بنا رکھے ہیں اور بغیر کسی تفریق کے قبضوں کے خلاف آپریشن جاری رکھا جائے گا۔طلال چوہدری نے مزید بتایا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی 2216 کنال اراضی پر کی جا رہی ہے، جبکہ بعض متاثرین کو آئی نائن، مارگلہ ٹا ئون اور راول ٹا ئون میں پلاٹس بھی دیے گئے۔ انہوں نے سینیٹ میں رہائشیوں کے حلف نامے بھی پیش کیے جن میں واپڈا سے عارضی کنکشن دینے کی درخواست کی گئی تھی۔وزیر مملکت نے کہا کہ اسلام آباد کلب کی جانب سے قبضہ کی گئی زمین بھی واپس لی جائے گی۔دوسری جانب وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے بری امام کے متاثرین کے حق میں آواز اٹھاتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کے آبا ئو اجداد کی زمین پر اسلام آباد، آباد ہوا، انہیں قابض کہنا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی اسلام آباد کے متاثرین میں شامل ہیں۔طارق فضل چوہدری نے کہا کہ مسلم کالونی میں باہر سے آ کر قبضہ کرنے والے افراد الگ معاملہ ہیں، لیکن اگر بری امام کے رہائشیوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے تو انہیں بہتر معاوضہ دیا جانا چاہیے۔