مغربی بنگال میں پرتشدد مظاہرے، 3 افراد ہلاک،سینکڑوں گرفتار

200مقدمات،منی پورمیں مودی حکومت کی سفاکیت عروج پر، عوام تشدد کا شکار
نئی دہلی (آئی این پی )بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں انتخابات کے بعد پھوٹنے والے تشدد میں کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ سینکڑوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا  ۔بھارتی میڈیارپورٹس کے مطابق پولیس  کا کہنا ہے کہ  تشدد کے واقعات کے بعد ریاست بھر میں 200 سے زائد مقدمات درج کیے گئے اور 433 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ہلاک ہونے والوں میں بھارتی وزیراعظم مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک سینئر رہنما کا معاون بھی شامل ہے۔حالیہ انتخابات میں بی جے پی نے وزیراعلی ممتا بنرجی کی جماعت ترنمول کانگریس کو شکست دی، تاہم ممتا بنرجی نے استعفی دینے سے انکار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن پر بی جے پی کے ساتھ ملی بھگت کا الزام عائد کیا ہے۔ دوسری جانب بھارتی ریاست منی پور میں  قابض بھارتی فورسزکے بڑھتے مظالم کے باعث   آزادی کی تحریکیں زور پکڑ گئیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق منی پور میں اپریل اورمئی2026 میں بھارتی فورسزسے جھڑپوں کی وجہ سے حالات مزید  کشیدہ ہو گئے۔ منی پور میں7اپریل کو بڑے پیمانے پراحتجاجی مظاہرے شروع ہوئے جن پر بھارتی فورسزنے سیدھے فائر کھول دئیے۔ منی پور میں8 اپریل 2026کوعوامی غصہ احتجاج اور تشدد  کی شکل اختیار کر گیا اور بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے۔ پرتشدد احتجاج اور جلا گھیرا ئوکے بعد منی پور میں ایک بار پھر کرفیو نافذ کرکے انٹرنیٹ بھی بند کر دیا گیا۔منی پور میں بھارتی قابض فورسز کی نہتے شہریوں پر فائرنگ سے 8سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ بڑھتی تحریکوں کو دبانے کیلئے قابض بھارتی فورسز نے  منی پور کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر آپریشن کیے     ماہرین کے مطابق منی پور کے بے گناہ عوام مسلسل مودی کی حکومت کی جابرانہ پالیسیوں اورغاصب فوج کی سفاکیت کا نشانہ بن رہے ہیں۔بی جے پی نے الزام لگایا ہے کہ اس کی جماعت کے کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ ترنمول کانگریس نے تشدد کا ذمہ دار بی جے پی کے حمایت یافتہ شرپسندوں کو قرار دیا ہے۔