لارڈز میں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلا گیا ٹیسٹ میچ غیر معمولی ریکارڈز اور دلچسپ اعداد و شمار کی وجہ سے تاریخ میں شامل ہو گیا۔
میچ میں مجموعی طور پر صرف 996 گیندیں پھینکی گئیں، جو دو بار مکمل آؤٹ ہونے والے ٹیسٹ میچز میں تیسری کم ترین تعداد ہے۔ اس سے کم گیندیں صرف 1907 میں لیڈز میں انگلینڈ اور جنوبی افریقا کے درمیان (976 گیندیں) اور 1888 میں لارڈز میں انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان (792 گیندیں) کے میچ میں پھینکی گئی تھیں۔یہ لارڈز میں 1888 کے بعد سب سے مختصر ٹیسٹ میچ بھی قرار پایا۔ انگلینڈ میں مجموعی طور پر یہ آٹھواں مختصر ترین مکمل ٹیسٹ میچ تھا۔میچ میں ایک اور اہم ریکارڈ قائم ہوا، جہاں 24 کھلاڑی بولڈ یا ایل بی ڈبلیو ہوئے، جو انگلینڈ میں کسی بھی ٹیسٹ میچ میں نیا ریکارڈ ہے۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ 2007 میں انگلینڈ اور بھارت کے میچ میں 23 کھلاڑیوں کا تھا۔یہ بھی حیران کن بات رہی کہ میچ میں ایک بھی اسپنر نے بولنگ نہیں کرائی، جس سے یہ انگلینڈ میں کھیلا گیا تیسرا ایسا ٹیسٹ بن گیا۔
بلے بازوں کے لیے یہ میچ انتہائی مشکل ثابت ہوا، جہاں چاروں اننگز میں سب سے زیادہ انفرادی اسکور صرف 57 رنز رہا، جو ایمیلیو گے نے بنایا۔ اسی طرح سب سے بڑی شراکت بھی 57 رنز کی رہی۔نیوزی لینڈ کی ٹیم دونوں اننگز میں مجموعی طور پر صرف 251 رنز بنا سکی، جو 1970 کے بعد دو بار آؤٹ ہونے کی صورت میں ان کا دوسرا کم ترین مجموعہ ہے۔بولرز مکمل طور پر حاوی رہے اور ہر 24.9 گیندوں پر ایک وکٹ گرتی رہی، جو ٹیسٹ کرکٹ میں غیر معمولی شرح ہے۔ میچ میں چار مختلف بولرز نے پانچ، پانچ وکٹیں حاصل کیں، جبکہ گس ایٹکنسن نے لارڈز میں اپنی شاندار فارم جاری رکھتے ہوئے ایک اور پانچ وکٹوں کی اننگز مکمل کی۔