راولپنڈی: پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری آج کچھ دیر بعد ایک اہم پریس کانفرنس کریں گے، جس میں بلوچستان کی تازہ سیکیورٹی صورتحال اور حالیہ انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں سے متعلق اہم تفصیلات سے آگاہ کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق پریس کانفرنس میں بلوچستان میں کیے گئے حالیہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (IBO)، دہشت گردی کے خطرات، سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور آئندہ کی حکمتِ عملی پر بھی بریفنگ دی جائے گی۔یہ پریس کانفرنس ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب بلوچستان میں قومی شاہراہ این-25 پر جھاو کراس اور کرارو کے درمیان سیکیورٹی فورسز نے مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر بڑا آپریشن کیا، جس میں کالعدم تنظیم فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 19 دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد قومی شاہراہ پر رکاوٹیں کھڑی کر کے مسافروں اور مقامی شہریوں سے بھتہ وصول کر رہے تھے۔ اطلاع ملنے پر سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے کا محاصرہ کیا، جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور 19 دہشت گرد مارے گئے۔تاہم اس آپریشن کے دوران وطن کے دفاع میں لڑتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کے 11 بہادر جوان جامِ شہادت نوش کر گئے۔ شہداء نے دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کامیاب کارروائی اس عزم کا واضح اظہار ہے کہ بلوچستان میں امن خراب کرنے، قومی شاہراہوں کو غیر محفوظ بنانے اور شہریوں کو یرغمال بنانے کی ہر کوشش کو پوری قوت سے ناکام بنایا جائے گا۔توقع ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر اپنی پریس کانفرنس میں آپریشن کی مزید تفصیلات، شہداء کی قربانیوں، دہشت گردوں کے نیٹ ورک، سیکیورٹی چیلنجز اور بلوچستان میں جاری انسدادِ دہشت گردی اقدامات سے متعلق اہم معلومات بھی فراہم کریں گے۔پریس کانفرنس کو ملکی و بین الاقوامی میڈیا کی جانب سے خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ حالیہ آپریشن کے بعد بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال قومی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔