ایران جنگ: اسرائیلی فوج نے قیادت کے مکمل نقصان کا خدشہ تسلیم کر لیا

ایران جنگ: اسرائیلی فوج نے قیادت کے مکمل نقصان کا خدشہ تسلیم کر لیا

ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے پہلی بار اعتراف کیا ہے کہ جنگ کے دوران اسے اپنی پوری فوجی قیادت کے بیک وقت مارے جانے کا خدشہ تھا، جیسا کہ اسرائیل خود ایرانی ملٹری کمانڈ کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر چکا تھا۔

  'شیڈو جنرل اسٹاف' کی تعیناتی:
اسرائیلی نیوز آؤٹ لیٹ وائی نیٹ کی رپورٹ کے مطابق:ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ کے دوران آئی ڈی ایف نے ایک "شیڈو جنرل اسٹاف" تیار کیا تھا۔یہ متبادل کمانڈ ایک محفوظ بنکر میں موجود تھی جو اس صورت میں کمان سنبھالتی اگر موجودہ سینئر قیادت جنگ میں مارے جانے کا شکار ہو جاتی۔
  دو طرفہ تباہی کا خدشہ:
اسرائیلی افواج کی تیاری کا مقصد ایرانی ملٹری قیادت کو مکمل طور پر ختم کرنا تھا۔تاہم، اسی نوعیت کے جوابی حملے میں اپنی قیادت کے مکمل نقصان کا شدید خدشہ بھی ظاہر کیا گیا۔
  جنگی منصوبہ بندی اور بریفنگز:
بنکر میں موجود شیڈو کمانڈ کے تحت:ڈپٹی چیف آف اسٹاف تمر یادائی کی سربراہی میں افسران اور سابقہ اعلیٰ کمانڈرز کو جنگی آپریشنز سے مکمل طور پر آگاہ رکھا گیا۔اس قیادت کو ایسی صورت حال کے لیے تیار کیا گیا جہاں موجودہ کمانڈر شہید یا معذور ہو جاتے۔
  آئی ڈی ایف کی حکمت عملی:
یہ انکشاف اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف ممکنہ مکمل جنگ میں "بیک اپ وار کمانڈ" رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی دفاعی پالیسی میں خود اپنے شدید جانی نقصانات کا بھی پیشگی اندازہ موجود تھا۔
  سیاسی و فوجی اثرات:
اس انکشاف نے خطے میں جاری سکیورٹی تناؤ اور جنگی خطرات کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ پہلا موقع ہے جب اسرائیلی فوج نے اتنی گہرائی سے اپنی ممکنہ کمزوری کا اعتراف کیا ہے۔