سندھ اور پشاور ہائی کورٹس کے نئے چیف جسٹس صاحبان نے منصب کا حلف اٹھا لیا

سندھ اور پشاور ہائی کورٹس کے نئے چیف جسٹس صاحبان نے منصب کا حلف اٹھا لیا

ملک کی اعلیٰ عدلیہ میں اہم پیش رفت، سندھ اور پشاور ہائی کورٹس کے نئے چیف جسٹس صاحبان نے اپنے عہدوں کا باقاعدہ حلف اٹھا لیا، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے نامزد چیف جسٹس کی حلف برداری آج ایوانِ صدر میں متوقع ہے۔

  سندھ ہائی کورٹ: جسٹس محمد جنید غفار نے حلف اٹھا لیا
چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس محمد جنید غفار نے گورنر سندھ کامران ٹیسوری سے حلف لیا۔تقریب حلف برداری گورنر ہاؤس میں اس تاریخی مقام پر منعقد ہوئی جہاں بانی پاکستان محمد علی جناح نے بطور گورنر جنرل حلف لیا تھا۔تقریب میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، سینئر ججز، وکلاء اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔

مزار قائد پر حاضری:
حلف برداری کے بعد جسٹس جنید غفار نے مزار قائد پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور پاکستان نیوی کے چاق و چوبند دستے نے انہیں سلامی پیش کی۔ ان کے ہمراہ سینئر جج جسٹس ظفر احمد راجپوت اور دیگر ججز بھی موجود تھے۔

میڈیا سے گفتگو:
چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے کہا:"اہم ذمہ داریاں ملی ہیں، اللہ کا شکر گزار ہوں۔ پوری کوشش ہوگی کہ عدالتی فرائض کو احسن طریقے سے انجام دوں۔"
انہوں نے بتایا کہ:ماتحت عدلیہ میں سول ججز کی تقرریاں عنقریب مکمل ہوں گی۔عدالتی دباؤ کم کرنے کے لیے مزید ججز تعینات کیے جا رہے ہیں۔آئینی ترامیم کے بعد بنچز کے دائرہ اختیار سے متعلق لارجر بنچز تشکیل دیے گئے ہیں۔کچھ کنفیوژن موجود ہے لیکن وقت کے ساتھ معاملات واضح ہو جائیں گے۔
  پشاور ہائی کورٹ: جسٹس ایس ایم عتیق شاہ چیف جسٹس بن گئے
پشاور ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے حلف لیا۔تقریب حلف برداری میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے بھی شرکت کی۔

  اسلام آباد ہائی کورٹ: جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کی حلف برداری آج متوقع
اسلام آباد ہائی کورٹ کے نامزد چیف جسٹس جسٹس سردار سرفراز ڈوگر آج اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔تقریب ایوانِ صدر میں ہوگی جہاں صدرِ مملکت آصف علی زرداری ان سے حلف لیں گے۔

  سیاسی و عدالتی حلقوں کی جانب سے مبارکبادیں
ملک بھر کے قانونی، سیاسی اور عوامی حلقوں کی جانب سے نئے چیف جسٹس صاحبان کو مبارکباد پیش کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تقرریوں سے عدالتی نظام میں بہتری اور مقدمات کے بروقت فیصلوں میں مدد ملے گی۔