کمبھ میلے میں بھگدڑ، 30 افراد جاں بحق، مودی سرکار پر کڑی تنقید

کمبھ میلے میں بھگدڑ، 30 افراد جاں بحق، مودی سرکار پر کڑی تنقید

ویب ڈیسک: بھارت میں ہندو برادری کے مقدس مذہبی اجتماع کمبھ میلے کے دوران 29 جنوری 2025 کو المناک حادثہ پیش آیا، جس میں بھگدڑ مچنے کے نتیجے میں 30 افراد جاں بحق اور 60 سے زائد زخمی ہوگئے جبکہ سینکڑوں افراد لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔

بھگدڑ کی وجوہات اور ناقص انتظامات
بین الاقوامی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق حادثہ وی آئی پی موومنٹ اور ناقص انتظامات کے باعث پیش آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق زائرین کی بڑی تعداد ایک ہی مقام پر جمع ہوگئی، مگر سیکیورٹی اور ہجوم کو کنٹرول کرنے کے مناسب اقدامات نہ ہونے کے سبب بھگدڑ مچ گئی۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے عام عقیدت مندوں کو نظرانداز کرتے ہوئے وی آئی پیز کو خصوصی پروٹوکول دینے پر زیادہ توجہ دی، جس کی وجہ سے افراتفری پھیل گئی اور درجنوں عقیدت مند جان کی بازی ہار گئے۔

مودی حکومت پر اپوزیشن کا سخت ردعمل
یہ افسوسناک واقعہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے ایک اور بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے مودی سرکار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی لاپرواہی اور بدانتظامی اس سانحے کی بنیادی وجہ ہے۔کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ وی آئی پی موومنٹ اور حکومتی عدم توجہی کے باعث یہ سانحہ رونما ہوا۔راہول گاندھی نے الزام لگایا کہ انتظامیہ عام عقیدت مندوں کو نظرانداز کرکے صرف وی آئی پی مہمانوں پر توجہ مرکوز رکھتی ہے، جس کی وجہ سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو نے مطالبہ کیا کہ کمبھ میلے کا انتظام فوج کے سپرد کیا جائے تاکہ زائرین کا اعتماد بحال ہو سکے۔الہ آباد سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اجول رمن سنگھ نے واقعے کی سپریم کورٹ سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

کمبھ میلے میں حادثات کی تاریخ
یہ پہلا موقع نہیں جب کمبھ میلے میں بھگدڑ اور ناقص انتظامات کے باعث قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ہو۔

2013: ناسک میں کمبھ میلے کے دوران بھگدڑ سے 42 افراد جاں بحق ہوئے۔
2013: 10 فروری کو الہ آباد ریلوے اسٹیشن پر پل گرنے سے 42 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔
2003: ناسک، مہاراشٹر میں بھگدڑ کے نتیجے میں 39 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔
حکومتی نااہلی اور عوامی غصہ
حادثے کے بعد ایک بار پھر مودی سرکار کی ناقص حکمت عملی اور غفلت سامنے آگئی۔ایمبولینس اور ریسکیو ٹیمیں تاخیر سے پہنچیں، جس کی وجہ سے زخمیوں کو بروقت طبی امداد نہ مل سکی۔
اپوزیشن جماعتوں اور عوام نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت اپنی ناکام پالیسیوں سے عوام کو دھوکہ دے رہی ہے۔عوامی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر حکومت کب تک اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کرے گی؟یہ سانحہ مودی حکومت کی بدانتظامی اور ترجیحات پر ایک بڑا سوالیہ نشان چھوڑ گیا ہے۔