ورلڈکپ سے قبل سکواڈ میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں دیکھ رہا ،سلمان علی آغا

لاہور(سپورٹس ڈیسک ) قومی  ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے کہا ہے کہ  ورلڈکپ سے قبل اسکواڈ میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں دیکھ رہا ،ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل 6 میچز باقی ہیں ہمیں تسلسل کے ساتھ کھیلنا ہوگا،صحیح راستے پر گامزن ہیں امید ہے کہ جلد نمبر ون ٹیم بن جائیں گے، مجھے دبائو کی وجہ سے مسئلہ ہوا، اب میں نے کپتانی اور بیٹنگ کو ساتھ لے کر چلنا سیکھ لیا ہے ۔ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے  سلمان علی آغا کا کہنا ہے کہ میرا نہیں خیال کہ ورلڈ کپ سے قبل کوئی بڑی تبدیلی ہوگی، ٹیم کا یہی کمبی نیشن ہوگا،  سب کھلاڑیوں کو رولز دے دئیے ہیں اور اسی رولز کے ساتھ آگے بڑھیں گے، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل 6 میچز باقی ہیں جن میں ہمیں تسلسل کے ساتھ کھیلنا ہو گا۔قومی کپتان کا کہنا ہے کہ ہم 6 میچز میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کر سکتے، ہم نے گزشتہ 6 ماہ ان ہی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلا ہے اور رزلٹ آنا شروع ہو گئے ہیں،  میں چاہتا ہوں کہ 2026 میں ہم ٹی ٹوئنٹی اور  پھر 2027 میں ون ڈے ورلڈ کپ جیتیں۔سلمان علی آغا نے کہا کہ یہ دونوں ورلڈ کپ جیتنا میرے خواب ہیں، اگر پورے ہو جائیں تو بہت خوش ہوں گا،  ابھی تک تو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ پاکستان ٹیم میری کپتانی میں ہی کھیلے گی، سینئر کھلاڑیوں کو سری لنکا کی پچز کا اندازہ ہ جبکہ نئے کھلاڑیوں کو ورلڈ کپ سے قبل سری لنکا سیریز کا فائدہ ہو گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ورلڈکپ سے قبل سری لنکا کے خلاف سیریز ہماریلئے  فائدہ مند ہو گی، ہم اس کو سنجیدہ لیں گے، میں سمجھتا ہوں پاکستان ٹیم درست ٹریک پر آچکی ہے لیکن بہتری کی ابھی بھی ضرورت ہے،  جہاں لوگ اور ہم دیکھنا چاہتے ہیں وہاں جلد پاکستان ٹیم پہنچ جائے گی، 6 ماہ میں ہم نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کو سامنے رکھ کر تیاری کی ہے، ابھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے قبل ہمارے 6 میچز باقی ہیں، اس میں مزید بہتر کرنے کی کوشش کریں گے۔انہوں نے کہا کہ میں نے 11 ماہ میں 56 انٹرنیشنل میچز کھیلے، اس کے لئے  فٹنس کا ہونا بہت ضروری ہے، آئندہ 3، 4 ماہ میں پاکستان کی کرکٹ بہت ہے، خود کو فریش رکھنے کے لئے لیگز میں نہیں جا رہا۔ان کا کہنا تھا آپ  پاکستان کے کپتان ہوں اور دبائو  نہ ہو ایسا ہو ہی نہیں سکتا ، مجھے دبائو کی وجہ سے مسئلہ ہوا، اب میں نے کپتانی اور بیٹنگ کو ساتھ لے کر چلنا سیکھ لیا ہے، بابر اعظم کو میں نے ہمیشہ دوست کی حیثیت سے دیکھا ہے، میں نے انہیں کبھی بڑے بیٹر کی طرح سے نہیں دیکھا۔