بھارت نے دریائے چناب میں آبی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانی کا ریلہ چھوڑ دیا ہے، جس کے نتیجے میں دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ 58,300 کیوسک ہوگیا ہے۔
اس اقدام کا مقصد گندم کی فصل کو نقصان پہنچانا بتایا جا رہا ہے، کیونکہ بھارت نے ڈیم خالی کرکے یہ پانی چھوڑا ہے۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ڈیم کو دوبارہ بھرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس سے دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ صفر ہوسکتا ہے، جو فصلوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔
ترجمان واپڈا کے مطابق، آج صبح 6 بجے کی صورتحال کے مطابق، دیگر اہم دریاؤں اور آبی ذخائر کی حالت درج ذیل ہے:
تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد 20,500 کیوسک اور اخراج 28,000 کیوسک ہے۔
منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد 3,400 کیوسک اور اخراج 35,000 کیوسک ہے۔
چشمہ بیراج پر پانی کی آمد 32,400 کیوسک اور اخراج 35,000 کیوسک ہے۔
ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 63,200 کیوسک اور اخراج 56,900 کیوسک ہے۔
نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کی آمد 7,400 کیوسک اور اخراج بھی 7,400 کیوسک ہے۔
مزید برآں، ریزروائرز کی سطح اور ذخیرہ کے بارے میں بتایا گیا ہے:
تربیلا ریزروائر میں آج پانی کی سطح 1490.27 فٹ ہے اور پانی کا ذخیرہ 26.68 لاکھ ایکڑ فٹ ہے۔
منگلا ریزروائر میں پانی کی سطح 1212.10 فٹ اور ذخیرہ 50.51 لاکھ ایکڑ فٹ ہے۔
چشمہ ریزروائر میں پانی کی سطح 646.60 فٹ اور ذخیرہ 1.97 لاکھ ایکڑ فٹ ہے۔
مجموعی طور پر، تربیلا، منگلا، اور چشمہ کے ریزروائرز میں قابل استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ 79.16 لاکھ ایکڑ فٹ ہے۔ واپڈا کے ترجمان نے بتایا کہ یہ پانی کی آمد و رفت 24 گھنٹے کے اوسط بہاؤ کی بنیاد پر ہے۔یہ صورتحال خطے میں پانی کی فراہمی اور فصلوں کے حوالے سے سنگین خطرات کی نشاندہی کرتی ہے، اور بھارت کی جانب سے یہ اقدام آبی دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد فصلوں کو نقصان پہنچانا اور مقامی پانی کے ذخائر پر اثر ڈالنا ہے۔