میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے حالیہ پریس کانفرنس میں شہر کے مختلف علاقوں میں بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی کی فراہمی کے مسائل پر گفتگو کی۔
انہوں نے بتایا کہ کورنگی، ملیر اور ضلع وسطی میں آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیش نظر پانی کی لائنیں بچھائی جا رہی ہیں تاکہ پانی کی چوری کو روکا جا سکے اور شہر کے ٹیل اینڈ علاقوں کو موثر طریقے سے پانی فراہم کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں، تقریباً 10 ارب روپے کی لاگت سے ایک نیا پراجیکٹ اکتوبر میں شروع کیا جائے گا جس کا مقصد ان علاقوں میں پانی کی سپلائی میں بہتری لانا ہے۔میئر کراچی نے اس دوران کے فور پراجیکٹ کا بھی ذکر کیا، بتایا کہ 2022 میں اس منصوبے میں کئی بے ضابطگیاں ہوئیں، اور ماضی میں اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ واپڈا کا دعویٰ ہے کہ یہ منصوبہ 2026 کے آخر تک مکمل ہو جائے گا۔انہوں نے آگاہ کیا کہ شہر کے ہر صنعتی علاقے میں فائر اسٹیشن قائم ہیں جہاں دو فائر ٹینڈرز موجود ہیں، اور فائر اسٹاف کے ایم سی کے زیر انتظام کام کرتا ہے۔ ح
ال ہی میں لانڈھی میں ایک فیکٹری میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا، جس میں فائر فائٹرز نے بروقت کارروائی کر کے آگ پر قابو پایا اور پانی کی سپلائی کو برقرار رکھا۔مزید برآں، مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کراچی کو مناسب سپورٹ فراہم کرے، اور تمام انڈسٹریز سے اپیل کی کہ مسائل کے حل کے لیے ورکنگ ریلیشنز کو مضبوط بنایا جائے تاکہ شہر کے مسائل جلد حل ہوں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہر کی ترقی اور عوام کی فلاح کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔