پیپلز پارٹی کے موجودہ اقدامات ایک اور مشرقی پاکستان بنانے کی کوشش ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

پیپلز پارٹی کے موجودہ اقدامات ایک اور مشرقی پاکستان بنانے کی کوشش ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ کسی کو جمہوریت پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے، گورنر نے غیر آئینی کام کیا ہے۔

 ان کے مطابق گورنر کی مبینہ غیر آئینی سرگرمیوں کا مقصد صوبائی حکومت کو اشتعال دلانا اور ردعمل پر مجبور کرنا ہے۔صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے پیپلز پارٹی پر بھی تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینا اس جماعت کا وتیرہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دوبارہ دہشت گردی مسلط کیے جانے کے بعد حالات مسلسل خراب کیے گئے ہیں۔وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ عمران خان اور ان کی حکومت نے ہمیشہ خیبرپختونخوا پولیس اور عوام کا ساتھ دیا ہے۔ ان کے مطابق 15 اکتوبر 2025 کو حلف اٹھانے کے بعد سے پولیس، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کو مسلسل مضبوط کیا جارہا ہے، جبکہ پولیس کو جدید اسلحہ اور آلات فراہم کیے گئے ہیں۔سہیل آفریدی نے کہا کہ سی ٹی ڈی کے انفرا اسٹرکچر اور اسپیشل برانچ کو مضبوط بنانے کے لیے بھرپور سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کا خیبرپختونخوا کے ساتھ طویل عرصے سے سوتیلی ماں جیسا سلوک رہا ہے اور 2018 میں قبائلی اضلاع کے انضمام کے باوجود ان کے مالی حقوق مکمل طور پر ادا نہیں کیے گئے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2024 سے وفاقی حکومت خیبرپختونخوا پر مسلسل ملٹری آپریشن مسلط کرتی رہی ہے، جس کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کو مکمل معاوضہ نہیں مل سکا۔ ان کے مطابق قبائلی اضلاع کے متاثرین کے تقریباً 100 ارب روپے کے معاوضے اب بھی واجب الادا ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ حکومت سنبھالنے کے بعد بے گھر افراد کے لیے اب تک 21 ارب روپے فراہم کیے جاچکے ہیں، جبکہ ملٹری آپریشنز اور ڈرون حملوں سے ہونے والے نقصانات کی ذمہ داری بھی صوبائی حکومت کو پوری کرنا پڑتی ہے۔سہیل آفریدی نے وفاق سے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا کا این ایف سی شیئر اپ گریڈ کیا جائے اور صوبے کے واجبات ادا کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے ساتھ وفاقی پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت اور پولیس امن و امان کے قیام کے لیے سنجیدہ ہیں، تاہم پولیس کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا درست نہیں۔ ان کے مطابق صوبے کے اسٹیک ہولڈرز کی پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں امن قائم کیا جاسکتا ہے۔وزیراعلیٰ کے پی نے دعویٰ کیا کہ 22 سال میں 14 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور 22 بڑے ملٹری آپریشنز کے باوجود صوبے میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکا۔ ان کے مطابق 80 ہزار جانوں کی قربانی کے باوجود امن کا مسئلہ برقرار رہنا وفاقی پالیسی کی ناکامی ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تعاون نہ کرنے کا بہانہ قابل قبول نہیں، کیونکہ بلوچستان میں بھی موجودہ پالیسی کے باوجود امن قائم نہیں ہوسکا۔ ان کے مطابق وفاقی پالیسی میں تبدیلی ضروری ہے۔گورنر سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ صوبائی وزیر فضل شکور خان کو اٹھایا گیا، وزیرستان میں پی ٹی آئی کارکنوں کو زخمی کیا گیا جبکہ شکیل خان پر بھی فائرنگ کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات صوبائی حکومت کو اشتعال دلانے اور حالات خراب کرنے کی کوشش ہیں۔سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت پرامن رہے گی اور صرف آئین و قانون کی بات کرے گی۔ انہوں نے آئی جی اور چیف سیکریٹری سے مطالبہ کیا کہ کسی بھی غیر آئینی یا غیر قانونی حکم پر عمل نہ کیا جائے۔

انہوں نے پولیس افسران سے متعلق بھی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ساؤتھ وزیرستان اور اپر وزیرستان میں پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر غیر قانونی فائرنگ کے واقعات کی تحقیقات کی جائیں۔ وزیراعلیٰ نے لاچی کے ایس ایچ او کے خلاف بھی فوری انکوائری کا حکم دیتے ہوئے عہدے سے ہٹانے کی ہدایت کی۔