تیسرا ملک

ایم زیڈ کنول
ہماری تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ ہم اسے اکثر جذباتی نعروں میں یاد رکھتے ہیں، دستاویزی سطروں میں نہیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ اگست 1947 میں ایک گھر ٹوٹا اور دو گھر بنے۔ یہ آدھا سچ ہے۔ پورا سچ یہ ہے کہ اسی چھت کے گرنے پر ایک تیسرا آنگن بھی الگ ہوا تھا، جس کا ذکر ہمارے نصاب میں کہیں نہیں ملتا۔ لیکن تحقیقات کے آنگن میں وہ آنگن عدن تھا جو آج یمن کے نام سے اپنی الگ شناخت رکھتا ہے۔
اس کہانی کا آغاز 1839 سے  ہوتا ہے۔حقائق بتاتے ہیں کہ برطانیہ کو متحدہ ہندوستان جانے والے سمندری راستے کے لیے ایک نگران چوکی چاہیے تھی، سو انہوں نے عدن پر توپیں کھول دیں۔ لیکن مقامِ حیرت یہ ہے کہ فتح کے بعد عدن کو لندن نے اپنے پاس نہیں رکھا،  بلکہ اسے بمبئی کی گود میں ڈال دیا۔ اگلے سو برس تک عدن ہندوستان ہی تھا۔ وہاں ہندوستانی روپیہ چلتا تھا، برطانوی ہندوستان کا قانون نافذ تھا، اور اگر عدن کے کسی تاجر یا مچھیرے کو انصاف چاہیے ہوتا تو اس کی فائل بحری جہاز پر رکھ کر بمبئی ہائی کورٹ بھیجی جاتی تھی۔
یہ رشتہ اتنا گہرا تھا کہ ہمارے ایک انقلابی واسو دیو بلونت پھڑکے جب انگریز کے ہاتھ لگے تو انہیں کالے پانی کی سزا کے لیے انڈمان نہیں، عدن بھیجا گیا۔ وہ 1883 میں اسی جیل میں اپنی زندگی کی بازی ہارے کیونکہ وہ جیل بمبئی پریزیڈنسی کی ایک تحصیل تھی۔
پھر 1935 طلوع ہوا۔ انگریز نے ہندوستان کو ایک نیا آئین دینے کا سوچا، گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935۔ تب سفید بابو کو پہلی بار خیال آیا کہ عرب اکثریت والے صحرائی شہر کو ہندوؤں اور مسلمانوں کے آئندہ وفاق میں کیسے جوڑا جائے گا۔ فیصلہ ہوا کہ رسی کاٹ دو۔ اس فیصلے کی اعانت میں ایکٹ میں ایک سطر لکھی گئی، "عدن برطانوی ہندوستان کا حصہ نہیں رہے گا"۔ یکم اپریل 1937 کو، جس دن برما کو ہندوستان سے کاٹا گیا، اسی دن عدن کو بھی کراؤن کالونی بنا دیا گیا۔ نقشے پر ایک لکیر کھینچ دی گئی۔
مگر یہ طلاق انتظامی تھی، قانونی نہیں۔ یہ ایسے ہی تھا جیسے بیٹا گھر سے نکل کر دوسرے محلے میں رہنے لگے لیکن اس کا خرچ اب بھی باپ کی جیب سے آئے۔ عدن پر حکومت کا قانونی جواز اب بھی اسی ہندوستانی آئین کی دفعہ 288 میں لٹکا ہوا تھا۔ 
اور پھر 15 اگست 1947 کی ساعت آئی۔
لندن میں کلرک جلدی میں تھے۔ انہیں ہندوستان اور پاکستان نامی دو ڈومینین بنانے تھے۔ فائل بند کرتے ہوئے کسی نے یاد دلایا کہ عدن کا کیا کریں گے؟ اس کا قانونی باپ تو وہی ہندوستان ہے جو کل تک ختم ہو جائے گا۔یوں انڈین انڈیپینڈنس ایکٹ 1947 میں ایک چھوٹی سی دفعہ ٹانک دی گئی۔ دفعہ 16۔ عنوان صرف ایک لفظ تھا، "عدن"۔
اس دفعہ 16 نے تین کام کیے۔ اول، اس نے کہا کہ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کی دفعہ 288 کی ذیلی دفعات 2 سے 4 اب ختم۔ آج سے عدن کسی ہندوستانی قانون سے نہیں، برٹش سیٹلمنٹ ایکٹس 1887 اور 1945 سے چلے گا، جیسے کوئی عام افریقی کالونی۔

دوم، پرانے قوانین برقرار رہیں گے مگر آئندہ ترامیم لندن کرے گا، دہلی یا کراچی نہیں۔ 
سوم، اور یہ سب سے اہم انسانی نکتہ تھا، کہ عدن کی عدالتوں سے جو اپیلیں ہندوستان یا پاکستان کی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، وہ بدستور چلتی رہیں گی، تاکہ آزادی کی صبح کسی سائل کا انصاف دروازے میں اٹکا نہ رہ جائے۔
 پھر تاریخ کی وہ روشن صبح طلوع ہوئی جس دن صرف ہندوستان اور پاکستان ہی معرضِ وجود میں نہیں آئے تھے، اس دن قانونی طور پر عدن بھی ہندوستان سے جدا ہوا تھا۔
اور عدن سے مراد صرف ایک بندرگاہ نہیں۔ 1937 کے آرڈر کے مطابق عدن کالونی خلیج کے شمالی کنارے پر آباد وہ چار بستیاں تھیں، کریٹر، المعلا، التواحی، خورمکسر، اور مغرب میں ریفائنری والا جزیرہ نما لٹل عدن جو البریقہ میں پڑتا ہے۔
یہ کالونی بیس سال مزید برطانیہ کے پاس رہی اور 30 نومبر 1967 کو جنوبی یمن کے نام سے آزاد ہوئی۔
آج جب ہم خبروں میں صنعا، عدن اور حوثیوں کا نام سنتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے وہ کوئی دور کی عرب دنیا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آج جس زمین پر میزائل گر رہے ہیں، وہاں 15 اگست 1947 تک وہی قانون نافذ تھا جو لاہور اور دہلی میں نافذ تھا۔
سرحدیں کبھی صرف زمین پر نہیں کھینچی جاتیں، وہ قانون کی کتابوں میں بھی کھینچی جاتی ہیں۔ اور کبھی کبھی ایک ہی قلم سے تین نقشے بن جاتے ہیں۔