اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکوں میں مبینہ کک بیکس اور سیاسی بنیادوں پر ٹینڈرز جاری کیے جانے کے الزامات سامنے آنے کے بعد 8 ارب 92 کروڑ روپے مالیت کے 71 ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز منسوخ کردیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ٹھیکوں کے عوض 5 سے 10 فیصد تک ایڈوانس کک بیکس وصول کیے جانے کی شکایات موصول ہوئی تھیں، جن کے بعد متعلقہ حکام نے معاملے کی تحقیقات شروع کردیں۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کک بیکس کی مد میں 50 کروڑ سے 90 کروڑ روپے تک وصولی کی شکایت سامنے آنے پر محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) نے ٹینڈرز منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم یہ الزامات تاحال تحقیقات کے مرحلے میں ہیں اور انہیں ثابت شدہ حقائق کے طور پر نہیں لیا جاسکتا۔
خیبر اور قبائلی ضلع میں ترقیاتی منصوبوں کی تقسیم پر سوالات
ذرائع کے مطابق ضلع خیبر میں تقریباً 5 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے قریبی ساتھی نوید سے منسوب کیے گئے، جبکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے تحت 3 ارب 90 کروڑ روپے کے منصوبے رکن صوبائی اسمبلی عبدالغنی سے منسوب کیے گئے ہیں۔تحقیقات کے دوران مبینہ طور پر ان دونوں شخصیات سے منسوب ترقیاتی اسکیموں میں کک بیکس کی شکایات سامنے آئیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹھیکوں کی تقسیم اور منصوبوں کی منظوری کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کے دوران اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔
محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے افسران سے پوچھ گچھ
ذرائع کے مطابق معاملے کی تحقیقات کے سلسلے میں سب ڈویژنل آفیسر (ایس ڈی او) باڑہ ضیاء اللہ کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی گئی، جبکہ محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ایکسین ریاض سے بھی تحقیقات کی گئیں۔حکام نے مبینہ بے ضابطگیوں کا سراغ لگانے کے لیے گزشتہ دو سال کا ریکارڈ بھی کھنگالا۔ تحقیقات میں ترقیاتی ٹینڈرز کی تقسیم، ٹھیکوں کے اجرا اور متعلقہ اسکیموں کے طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔
گمنام درخواست پر ٹینڈرز منسوخ کرنے کا فیصلہ
ذرائع کے مطابق ضلع خیبر کے ترقیاتی ٹینڈرز کی منسوخی کے لیے سیکرٹری محکمہ مواصلات و تعمیرات کو ایک گمنام درخواست موصول ہوئی تھی، جس میں ٹھیکوں کی تقسیم اور مبینہ کک بیکس سے متعلق شکایات کی نشاندہی کی گئی تھی۔درخواست اور موصول ہونے والی شکایات کے بعد سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو نے 6 نومبر کو 8 ارب 92 کروڑ روپے مالیت کے 71 ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز منسوخ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔حکام کے مطابق ٹینڈرز کی منسوخی کا مقصد مبینہ مالی بے ضابطگیوں، سرکاری وسائل کے غلط استعمال اور ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن کے خدشات کو روکنا ہے۔
تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع ہونے کا امکان
خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری ٹھیکوں کی تقسیم سے متعلق جانچ پڑتال کا معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صوبے میں سابقہ ترقیاتی اسکیموں کے ریکارڈ کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔ اس سے قبل بھی صوبے میں ترقیاتی منصوبوں اور معاہدوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کی خبریں سامنے آچکی ہیں۔