لاہور ( خصوصی رپورٹ)لاہور میں سرکاری تھیلیسیمیا سینٹر میں گزشتہ چار ماہ سے ادویات دستیاب نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ جیل روڈ پر قائم اس سرکاری سینٹر کو 26 سال ہو چکے ہیں، جہاں اب تک 900 سے زائد بچوں کا مفت علاج کیا جا چکا ہے، تاہم گزشتہ چار ماہ سے آئرن کی ادویات دستیاب نہیں۔ رپورٹ کے مطابق ادویات نہ ملنے کے باعث اب تک دو سگے بہن بھائیوں سمیت سات بچے زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ ادویات کی عدم دستیابی کے باعث کئی بچے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ سرکاری تھیلیسیمیا سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فرحان رشید نے بتایا کہ کچھ عرصے سے ادویات کی قلت کا سامنا ہے۔ یہی ادویات فیصل آباد اور راولپنڈی کے سرکاری تھیلیسیمیا سینٹرز کو بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق رواں سال تھیلیسیمیا کی ادویات کی کمی رہی ہے، جس کے لیے دو مرتبہ ٹینڈر جاری کیے گئے۔ پہلے ٹینڈر میں کوئی کمپنی شریک نہ ہوئی، جس کے باعث اسے منسوخ کر دیا گیا، جبکہ دوسرے ٹینڈر کا عمل جاری ہے۔ ڈاکٹر فرحان رشید کا کہنا ہے کہ سرکاری سینٹر میں روزانہ 25 مریض انتقالِ خون کے لیے آتے ہیں۔ پاکستان ڈرگ لائرز فورم کے صدر نور مہر کے مطابق پاکستان میں تھیلیسیمیا کی دوا صرف دو سے تین کمپنیاں تیار کرتی ہیں اور یہ عام فارمیسیوں پر دستیاب نہیں ہوتی۔ ایسے مریضوں کے لیے ایک ماہ کی دوا کی قیمت تقریباً 10 ہزار روپے ہے۔